انوارالعلوم (جلد 1) — Page 14
کر جس کا کہ تجھ کو علم نہیں پس ان کی بات نہ مان مگر پھر بھی دنیا میں ان کی تابعداری ہی کر اور اس کی تابعداری کرجو میری طرف جھکتا ہے کیوں کہ پھر تمهار الوٹنامیری طرف ہے جہاں کہ تم کو تمہارے اعمال سے خبردار کیا جائے گا۔یہاں خدا تعالیٰ سخت تاکید کرتا ہے کہ والدین کی بھی اس معاملہ میں پرواہ مت کرو اور مجھ سے شرک نہ کرو اور جب کہ تم میں اور والدین میں ایک قسم کی جدائی ہوئی تو گویا کہ تم ایک یتیم کی طرح رہ گئے مگر خدا تعالیٰ کسی کا احسان نہیں اٹھاتا۔پھر خدا تعالیٰ نے جیسا کہ تمہارے پیدا ہونے کے وقت تمہارے والدین سے کیا یعنی ان کےدلوں میں محبت ڈال دی ویسا ہی اب اپنے رسول یا مامور کے دل میں تمہاری محبت ڈال دے گا بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ خدا کچھ چیزلے کے زیادہ کر کے واپس کر تاہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ- جو میری طرف جھکتا ہے یعنی اس کے رسول کی تابعداری کرو۔اوراسی کو والدین تصور کرو۔اب پھر لقمان کا قول آیا۔یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ یعنی ایسے میں اگر ایک ذراسادانہ ہو جو رائی کے برابر ہو تو خواہ وہ پتھر میں یا آسمانوں میں اور خواہ زمین میں ہو اس کو لے آئے گا کیوں کہ لطيف خبیر ہے۔یہاں بھی حضرت لقمان اپنے بیٹے کو بتاتے ہیں کہ خدا ذرا ذراسی بات کو بھی جانتا ہے۔پس شرک سے اتنا بچ کہ رائی کا ایک حصہ بھی نہ رہے پھر ہے یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ یعنی اے بیٹے نماز کو قائم کر۔نیک باتوں کا وعظ کر اور بدیوں سے لوگوں کو منع کر اورصبر کراس مصیبت پر جو تجھے پہنچے کیوں کہ یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔اس جگہ حضرت لقمان اپنےبیٹے کو فرماتے ہیں کہ صرف بدی سے بچنا کوئی کمال نہیں بلکہ بدی سے بچنا اور پھر نیکی کرنا کمال ہے۔پس اس لئے فرماتے ہیں کہ شرک کو ترک کرنے کے بعد نماز کو قائم کر دے۔یعنی اپنی عبادتوں کوسنوار یہاں تک کہ تیر ابولنا تیرا سننا اور کھانا پیناخد اکے لئے ہی ہو جائے۔جس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ خدا کا مامور ہو جائے گا اور لوگوں کو نیک باتیں سنانا اور بدیوں سے منع کرتا تیرا کام ہو جائے گا۔پھر اس وقت جیسا کہ سنت ہے لوگ تیرے مخالف ہو جائیں گے اور تکلیفیں اور اذیتیں تجھ کو دیں گےکیوں کہ رسولوں کے ساتھ شروع شروع میں ایسا ہی ہوتا ہے۔پس تو ان باتوں پر صبر کرے کیونکہ یہ بڑے امور سے ہے پھر ہے وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍیعنی لوگوں کے لئے اپنے منہ کو مت موڑ اور زمین میں کبر اور اکڑسےمت چل کیونکہ خدا کو متکبر اور فخر کرنے والا انسان پسند