انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 296

ایسے مقام پر لگا کہ وہ مرگیا۔دوسرے دن پھر دو شخصوں کو کرتے دیکھا جن میں سے ایک وہی کل و الاعبری تھا۔آپ نے فرمایا کہ تو بڑا شوخ ہے روز لڑائی کر تا ہے۔یہ کہہ کر ان دونوں کی طرف لپکے۔اس نے سمجھا مجھے بھی مارنے آتے ہیں۔بول اٹھا کہ آپ نے جیسے کل فلاں کو مارا تھا آج مجھے بھی مارنا چاہتے ہیں آپؑ سمجھے کہ اب بات کھل گئی اور فراعنہ سے لڑائی کی ابتدا ہو گئی مصر کو چھوڑ کرایک اور ملک میں آگئے جہاں قریبا ًدس سال رہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم پا کر ملک مصر میں واپس آئے۔راستہ میں فرعون کی ہدایت کا کام سپرد ہوا۔اب یہ وہ فرعون نہ تھا جس کے عہد میں یہ بھاگے تھے۔بلکہ رعمسیس کے بعد اس کا بیٹا منفتاح بیٹھا تھا۔چنانچہ حضرت مو سیٰؑ کے پاس پیغام الہٰی لیکر پہنچےاور حکم الہٰی کے ماتحت بڑی نرمی سے عرض کیا کہ آپ کے رب کی طرف سے ہم رسول ہیں کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔یہ کل واقعہ قرآن شریف میں یوں ہے اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰی قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى(۴۵)قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰی فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْؕ-قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَؕ-وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى ( : ۴۴-۵۱) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام و ہارون ؑ کو فرمایا کہ تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے۔پس دونوں اس سے بڑی نرم باتیں کرو کہ وہ ان پر عمل کرے اور ڈرے۔ان دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم تو ڈرتے ہیں کہ وہ ہمارے معاملہ میں زیادتی سے کام نہ لے اور حضور کے پیغام کے مقابل سرکشی کام میں نہ لائے۔فرمایا کہ تم اس بات سے خوف مت کرو۔میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں پس اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تیرے رب کی طرف سے رسول ہیں۔پس تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیجدے اور انہیں عذاب مت دے۔ہم تیرے پاس دلا ئل بھی لائے ہیں جو تیرے رب کی طرف سے ہیں اور سلامت وہی رہتا ہے جو ہدایت کے پیچھے چلے۔ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے یا منہ پھیرے اس کے لئے عذاب ہو گا ( فرعون نے ان کی بات کی کچھ پرواہ نہ کی اور بحث شروع کر دی )اس نے کہا کہ اے موسیٰؑ تمہارا رب کون ہے (وہ حضرت ہارون ؑکی طرف مخاطب بھی نہیں ہوا معلوم ہو تا ہے۔و وان کو نعوذ بالله بہت حقیر جانتا تھا۔لیکن حضرت موسیٰؑ چو نکہ قلعہ میں