انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 224

دلائل تو دلائل دعاوی تک ہم کو خود تیار کرنے پڑیں۔اور اس صورت میں چرخدا تعالیٰ کا ہم پر کیااحسان ہوا۔یہ تو ہماری اپنی کوششوں کا نتیجہ ہوا کہ لوگ خدا کو سمجھنے لگے ورنہ اگر ہم کوشش نہ کرتے تو خدا کی کتاب ایک بے فائدہ چیز کی طرح رہ جاتی۔مگر اسلام ہی ایک مذہب ہے کہ کہتا ہے کہ تم ہماری مخلوق ہو ہم کو تمہاری مدد کی کچھ ضرورت نہیں، ہم نے اپنی کتاب کو کامل بنایا ہے۔اور دعاوی اور دلائل میں ناقص نہیں رکھا۔پس اگر تم ہدایت پاتے ہو تو یہ اس لئے کہ تم ہم پر احسان کرتے ہو بلکہ اس لئے کہ ہم نے تمہارے لئے سچائی کو ایسابّین کر کے کہہ دیا ہے کہ سوائے نادان یا شریر آدمی کے کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔پس جس رنگ سے اسلام کو خدا تعالیٰ نے دنیا کےسامنے پیش کیا ہے۔اس طرح اسلام پر اس کے ماننے والوں کا کوئی احسان نہیں۔بلکہ اسلام کا ان پرہے۔لیکن دوسرے مذاہب کا دارومدار ان کے پیرؤوں پر ہے۔اگر انہوں نے ان کی خبر گیری کی اوراپنے پاس سے ان کے لئے دلائل مہیا کئے تب تو وہ کچھ بچ ر ہے۔ورنہ جسم بے جان کی طرح زمین پرجا پڑے جو کہ ایک سچے مذہب کی نشانی نہیں۔یہ اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے میں تمام دعاوی اور ان کے دلائل قرآن شریف سے ہی بیان کروں گا۔ماتؤيقي الا بالله العلي العظيم یا تو اسلام میں نجات ہے یا کسی مذہب میں نہیں مذاہب میں جھگڑا کیوں ہےدوسری بات جو تمید ہی میں بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔یہ ہے کہ تمام مذاہب کا جو جھگڑا پڑتا ہے۔تو صرف ایک دوسرےکو دعوت کرنے کی وجہ سے ہی پڑتا ہے۔مثلا ً مسیحی جب تمام دنیا کے مذاہب کے پیرؤوں کو اپنی طرف بلاتے ہیں۔اور اپنے تم سب کو ہی سچا سمجھ کر دوسروں کو بھی اس کے قبول کرنے کی تلقین کرتے ہیں تبھی دوسرے مذاہب کو بھی اس کے ردّکرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔اگر دنیا میں کل مذاہب ایسے ہی ہوتے کہ وہ ایک دوسرے کے پیرؤوں کو اپنے اند ر ملانے کی طرف توجہ نہ کرتے۔یا انہیں ممنوع ہوتا تو ہرگز یہ ضرورت پیش نہ آتی کہ ایک مذہب دوسرے مذہب کی اس زور شورسے تردید کر تا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان فرقوں میں جو دو سرے مذاہب کے پیرو ان کو اپنے اندرشامل نہیں کرتے۔اس قسم کے مباحثات پیش نہیں آتے۔مثال کہیں نظر نہیں آئے گا کہ یہودی اورسناتن و محرم کے پیرو ایک دوسرے کے بر خلاف سختی سے مذ ہبی مباحثات کر رہے ہوں۔مگر یہودیوں