انوارالعلوم (جلد 1) — Page 195
ملک پر پڑتا ہے ممکن ہے کہ ذرا سی غلطی میں کوئی تباہی آجاوے اور دوسرے گورنمنٹ دلوں کی واقف نہیں کہ یہ شخص کی توبہ کرتا ہے کہ نہیں تیسرے گورنمنٹ انسانی اجسام اور ارواح کی مالک نہیں ہوتی کہ سب گناہوں پر چشم پوشی کی اس کو طاقت ہو جیسے کہ اسلام میں ایک قاتل کوگورنمنٹ معاف نہیں کر سکتی ہاں مقتول کے وارث کر سکتے ہیں آخر میں یہ بات عرض کروں گا کہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ گورنمنٹ معاف نہیں کرتی گورنمنٹ کرتی ہے اور سینکڑوں کو کرتی ہے کیاآپ کو معلوم نہیں کہ ایسے صد ہا واقعات ہوئے ہیں کہ اگر ججوں نے معاف نہیں کیا تو صوبہ کےگورنر یا خودوائسرائے نے سزا معاف کر دی ہو۔پھر آپ وہ بات کہتے کیوں ہیں کہ جو اصل میں غلط ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مسیحؑ جیسا کہ میں اوپر کے آیا ہوں رحم ہی رحم کی تعلیم دی ہےعدل کو برباد کر دیا ہے۔پس اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ گناہ معاف ہونے ضروری ہیں اور انسانی فطرت اس کو چاہتی ہے اور جو مذہب اس کے بر خلاف کہتا ہے وہ واقعہ و حقیقت سے محجوب ہے۔غرض کہ گناہ کا معاف ہونا ضروری ہے اور عقل اسی کو چاہتی ہے۔اسلام نے اسے ایک اعلی پیرایہ میں بیان فرمایا ہے خود عیسائیوں نے اسے لیا ہے مگر ایک بھید سے اور خطرناک رنگ میں۔انسان گناہوں سے بچ سکتاہے جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں انسان گناہوں سے بچ سکتا ہےاور گناہ معاف ہو سکتے ہیں اور کامل شریعت کے ذریعہ کامل معرفت حاصل کر کے انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے۔اور جو شریعت انسان کو گناہوں سے بچاتی نہیں وہ ناقص ہے اور کسی کام کی نہیں پس سچی با ت یہی ہے کہ گناہوں سے انسان کامل شریعت کی معرفت بچ سکتا ہے۔او ر وہ ہذہب جو اس کے بر خلاف کہتا ہے وہ الزام سے بچنے کیلئے کہ میری قلعی نہ کھل جائے ایسا کرتا ہے اور انسانوں پر الزام دیتا ہے کہ تم ہی گندے ہو ورنہ میں تو پاک ہوں۔کیاایک پولیس مین کے سامنے چور چوری کرتا ہے ہر گز نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مجھے نقصان پہنچے گانہ اس لئے کہ اس کے لئے کوئی شخص پھانسی پر چڑھ چکا ہے۔کیا ایک فوج کی موجودگی میں ڈاکو ڈاکہ ماریں گے کبھی نہیں نہ کسی کفارہ کی وجہ سے بلکہ اس لئے کہ ان سے بڑی طاقت وہاں موجود ہے جوان کو سزا دے گی۔اسی طر ح شریعت علا وہ اعمال حسنہ کے بتانے کے خدا تعالیٰ ٰکی قدرت اور طاقت اس قدر انسان پر روشن کر دیتی ہے کہ وہ گناہ پر قادر ہی نہیں رہتا پس کیا پولیس مین کی آنکھ سے توچور چوری کو چھوڑ سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی آنکھ کا کامل علم رکھتے ہوئے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔پس اصل بات یہی ہے کہ کامل معرفت انسان کو گناہ سے بچاتی ہے ورنہ تجسم کا سب ڈھکوسلا ہے اور وہ