انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 161

آل عمران : ۸) لیکن وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب جس میں نشان ہیں محکمات بھی جو کتاب یعنی قرآن شریف کی جڑ ہیں اور دوسری ایسی باتیں بھی اس میں ہیں جومتشابہات ہیں۔یعنی بعض باتیں جو اصول کے طور پر بتائی گئی ہیں وہ تو محکمات ہیں۔اور بعض متشابہات بھی ہوتی ہیں جو بعض کو سمجھ آتی ہیں اور بعض کو نہیں اور ان کا صحیح علم خدا تعالیٰٰ کے پاس ہوتا ہےپس ان پر اعتراض کرنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو کج طبع ہیں پس ہر ایک نبی کی سچائی کو پرکھنے کے لئےاس کی تمام پیشگوئیوں پر مجموعی نظر ڈالنی چاہیے اور دیکھنا چاہیئے کہ کثرت کسی طرف ہے اورمحکمات بھی ہیں یا تمام متشابہات ہی ہیں۔اور اگر ثابت ہو کہ کلمات بھی ہیں تو متشابہات کو چھوڑ کرچاہئے کہ سچائی کی راہ کو قبول کیا جائے۔اور کثرت کو مد نظر رکھ کر قلت کا خیال نہ کیا جائے یعنی جب اکثر پیشگوئیاںمحکمات سے ہوں اور تھوڑی سی متشابہات سے تو چاہیئے کہ محکمات کا لحاظ کیا جائے اور متشابہات کو خدا کے علم پر چھوڑ دیا جائے۔ورنہ اگر یہ اصول نہ برتا جائے تو کسی نبی کی سچائی ثابت نہیں ہو سکتی اورآدمؑ سے لے کر نبی کریمﷺ تک تمام نبی نعوذ باللہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں کیونکہ ہر ایک کے ساتھ متشابہات لگے ہوئے ہیں۔اور ایمان بالغیب کا مسئلہ بھی بالکل اڑ جا تا ہے۔کیونکہ اگر متشابہات نہ ہوں اور محکمات ہی ہوں تو پھر کسی کا ایمان کام نہیں آئے گا۔اور ہر ایک شخص فرعون کی طرح نامراد مرے گا۔ایمان کاثواب تو تبھی تک ملتا ہے جب تک کہ انسان اپنے نفس کی قربانی کر کے ایک بات محض رضائے الہٰی کے لئے مان لیتا ہے۔ورنہ اگر متشابہات کا سلسلہ ہی اٹھ جائے تو ایمان ایمان نہیں رہتا۔چنانچہ یہودیوں نے جب یہ سوال کیا کہ ارنا الله جھرة فاخذهم الصعقة بظلمهم النساء : ۱۵۴) یعنی جب انہوں نے کہا کہ ہم کو خدا ظاہر میں دکھا تو ان کو اس گناہ کی وجہ سے عذاب نے پکڑ لیا جس سے ظاہر ہو تا ہے۔کہ یہ سوال کرنا کہ ہم کوایسی پیشگو ئیاں چاہئیں جومتشابہات میں سے نہ ہوں۔بلکہ صرف مسلمات میں سے ہوں ایک گناہ ہے۔اور ایسے نشانات کا طلب کرناجن سے حق ایک اور ایک دو کی طرح ظاہر ہو جائے ایک بدی ہے۔اسی بناء پر میں پوچھتا ہوں کہ جبکہ حضرت اقدسؑ کی پیشگوئیوں میں بھی بعض متشابہات پائی جاتی ہیں تو ان پر کیوں اعتراض کیا جا تا ہے۔آپ کے ہاتھوں پر سینکڑوں نشانات دکھائے گئے جو ایک بیّن طور سے پورے ہوئے پس اگر چند پیشگوئیاں سمجھ میں نہیں ہیں یا بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے۔کہ وہ غلط ہو گئیں تو ان کی وجہ سے ان ہزارہ پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا جو لاکھوں کی تعداد میں پوری ہوئی ہیں کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔کیا سچائی کی تڑپ رکھنے والا ایسا کام کر سکتا ہے۔حضرت اقدسؑ ایسے