انوارالعلوم (جلد 1) — Page 148
آئندہ ہونے والے لڑکے کو ان کے لڑکے کے نام سے پکار نہ سکے۔کیا وہ کام جس کا انسان کو اختیارہے خدا اس کے کرنے سے معذور ہے؟ جب دنیا کے طالب ایک شخص کو کیا پہلے گذرے ہوئےشخص سے نسبت دیتے ہیں حالانکہ وہ اس کا مستحق نہیں ہو تا۔تو کیاخد اجو خوب جانتا ہے کہ کون کس سے نسبت دیئے جانے کے لائق ہے ایسا نہیں کر سکتا؟ آج وہ سید جو ہزاروں تم کی بدیوں میں مبتلا ہیں اور لاکھوں گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور سینکڑوں قسم کی بد کار یاں صبح اور شام ان سے سر زد ہوتی ہیں۔اور وہ جن کے اقوال ایک شریف آدمی کی زبان پر نہیں لائے جاسکتے اور جن کےافعال ایسے نہیں ہیں کہ نیکوں کی مجلس میں ان کا ذکر بھی کیا جائے تو آل محمدﷺ کہلانے کےمستحق ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود ؑکی نسل میں سے کسی لڑکے کو اگر خدا تعالیٰ نے کسی مصلحت کی وجہ سے ان کا لڑ کا قرار دیا اور اس کے وجود کی ان کو بشارت دی تو و ہ ناجائز ٹهہرا؟ کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا ان سے بھی زیادہ محدود طاقتوں والا ہے ؟ یا اس کو نسبت دینے کا علم نہیں اور وہ اس بارےمیں غلطی کر بیٹھتا ہے ؟ (نعوذ باللہ )آج سینکڑوں نہیں ہزاروں لیکچرار اپنی تقریروں میں زور زور سے چلاّ چلاّ کر کہتے ہیں کہ اے بنی آدم ایسا مت کرو۔ایسا کرو مگر ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ہمارےباپ کا نام تو آدمؑ نہ تھا۔پھر تم کیوں ہم کو اس نام سے پکارتے ہو۔مگر حضرت صاحبؑ کی نسل میں سے ایک بچہ کو اگر ان کا لڑکا قرار دیا گیاتو کون سا اند ھیرا آگیا۔گفي هذا کا الہام صاف ثابت کرتا ہے کہ بیٹے کے الہام آئندہ نسل کے کسی لڑکے کی نسبت ہیں۔اور پھر وہ الہام جس میں ہے کہ تیری اولاد تیرے نام سے مشہور ہوگی۔اس کی اور بھی تائید کرتا ہے کہ آئندہ نسل کو بھی حضرت مسیح موعودؑ کا بیٹا کہاجاسکتا ہے۔خدا تعالیٰ تو خوب جانتا ہے کہ کون ان کا بیٹا بننے کے لائق ہے اس لئے اگرکسی عظیم الشان لڑکے کی نسبت جو دنیا میں ایک تبدیلی پیدا کروے خبر دی جائے اور اس کو حضرت صاحب کا بیٹا قرار دیا جائے تو کیا حرج ہے۔نبی کریم ﷺنے بھی تو فرمایا ہے کہ اہل فارس میں سے جو ایمان لائے وہ بنی فاطمہ میں سے ہے پس کیا اہل فارس خود حضرت فاطمہ ؓکے لڑکے بن جاتے ہیں۔اور پھر اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ جیسے قرآن و حدیث میں کثرت سے ہے اور یہ محاورہ استعمال ہوتاہے۔تو حضرت مسیح موعودؑسے اگر خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں کام کیا تو کیا حرج واقعہ ہو مثلا ًقرآن شریف میں یہودیوں کو بار بار بنی اسرائیل کے نام سے پکارا جاتا ہے حالانکہ اسرائیل کو فوت ہوئےقريبا اڑھائی ہزار برس گذر گئے تھے۔اور یہودیوں کو پھر بھی خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نام سے پکارا ہے اگر یہ محاورہ عرب کا نہ ہوتا اور کتب الہیہ میں ایسا طریق نہ ہوتا تو اس وقت کے یہودی جو