انوارالعلوم (جلد 1) — Page 128
مستقیم پر چلایا جائے اور وہ لوگ جو خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔یا اس کی ذات میں کسی اور کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ان پر خدا کی واحد ولا شریک ہستی کو ظاہر کیا جائے اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم کیا جائے اور بدیوں اور بدکاریوں اور مختلف قسم کے گناہوں کی جڑ زمین سے اکھیڑ دی جائے اور ان تمام شیطانی کارروائیوں اور فریبوں اور مکروں کو برباد کیا جاوے اور خاک میں ملا دیا جائے جو کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے راستہ میں کئے جاتے ہیں اور تا کہ ایسا ہو کہ خدا کے نام کی برکت پھر دنیا میں پھیلائی جائے اور سعید دلوں سے اس کی دوری کابیج نکال دیا جائے اور بجائے کفر کی پلید کیوں اور گندگیوں اور نجاستوں کے پودا کے ایمان اور تقویٰ کا مضبوط اور سایہ دار درخت لگایا جائے اور انسانوں کے دلوں میں الفت اور محبت اور یگانگی پیدا کی جائے اور حسن ظنی کے وسیع اور با امن راستہ پر ان کو بلایا جائے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان کو گمراہی اور ضلالت میں چھوڑ دے۔چنانچہ جب کبھی شرک اور بدعت اور فسق و فجور دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور گناہوں سے دنیا بھر جاتی ہے اور وہ جو پاک اور مقدس ہوتے ہیں ان پر ہنسی کی جاتی ہے اور دین کی باتوں کو ٹھٹھے میں اڑایا جاتاہے اور خدا کے نام کی پرواہ نہیں کی جاتی اور اس کا جلال دلوں سے اٹھ جاتا ہے اور ایک ایسا اندھیرادنیا پر چھا جاتا ہے کہ آفتاب و حدت کا روشن چہرہ بالکل چھپ جاتاہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اس زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں اور مختلف قسم کے بتوں کی پوجا کی جاتی ہے کو ئی تجارت کو اپنا رزاق سمجھتا ہے تو کوئی زراعت کو اور بہت سے ہوتے ہیں جو اس خدائے قادر کی بجائے ضعیف اور ناتواں انسان کی پرستش کرتے ہیں اور ایک کثیر تعداد مخلوق کی بے جان چیزوں سے اپنی حاجت روائی کرنا چاہتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور زمین اور پہاڑ اور دریا اور جنگل اور درخت اور پتھر اور لکڑی اور تصویروں کو خدا کا قائم مقام سمجھ لیا جاتا ہے۔یہ ایک زمانہ ہوتا ہے کہ دنیا خدا کی سلطنت کی بجائے شیطان کی سلطنت کو قبول کرتی ہے اور بنی نوع انسان کا دشمن ایک دوست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ایسے وقت میں خدا کی غیرت جوش میں آتی ہے اور اس کا رحم اور غضب ایک ہی وقت میں بھڑک اٹھتے ہیں۔اور وہ ارادہ کر لیتا ہے کہ دنیا سے گناہوں کو دور کیا جائے۔اور اس کا چہرہ پھر دوباره روشن کیا جائے اور بعد اور دوری کے بادلوں کو اس کے آگے سے ہٹادیا جائے۔اور اس کی بجائے اس کی رحمت کی بارش دنیا پر ہو اور محبت اور پیار کی خوشگوار ہواؤں کے جھونکوں سے ان پاک باز روحوں کے دماغوں کو معطر کیا جائے جو کہ خدا کی بادشاہت کے لئے مدتوں سے غم کرتے اور رنج اٹھاتے ہیں۔اور یہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس کے غضب کی کو ئی انتہاء نہیں ہوتی کیونکہ بد