انوارالعلوم (جلد 1) — Page 125
کو نہیں مان سکتا۔اور اب جبکہ مرزا صاحب فوت ہو چکے ہیں۔تو اپنی ولایت ثابت کرنے کے لئےاشتہار دے دیا کہ اس دعا کے مطابق میں سچا ثابت ہوا۔لیکن اگر وہ غور کریں اور تدبر سے کام لیں تو ان پرکھل جائے گا کہ اس فیصلہ کو مان کر بجائے سچا ثابت ہونے کے وہ محض جاہل اور احمق ثابت ہوئے ہیں۔کیونکہ وہ خوردشائع کر چکے ہیں کہ اس کے ماننے والا دانا نہیں یعنی احمق ہے۔اب ناظرین خود سوچ سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ پہلے تو مباہلہ سے مولوی ثناء اللہ صاحب نے انکار کیا اور پھر جب دعا کا طریق فیصلہ کے لئے مقرر کیا کہ اس طرح حق ثابت ہو جائے اور جھوٹے اور سچےمیں امتیاز ہو جائے تو اس نے اس کا بھی انکار کردیا اور لکھا کہ اس کا اثر تو مجھ پر پڑتا ہے پھر اس کا کیا فائدہ مگر یہ نہ سمجھا کہ جب اس نے قسم کھانے کی خواہش ظاہر کی تھی اور لکھا تھا کہ اگر عذاب معین کردیا جائے تو میں قسم کھا سکتا ہوں۔اس وقت بھی تو عذاب کا اثر اسی پر پڑ تاتھانہ کسی اور پر۔پھر اس وقت کیوں پڑھ پڑھ کر خلاف سنت کہتا تھا کے عذاب کی تعیین کردو تو میں قسم کھا لیتا ہوں کہ مرزا جھوٹا ہے۔کیاقسم کھانے کے وقت ثناء اللہ کی حیثیت اور تھی اوراس دعا کے شائع کرنے کے وقت او ریا محض بہانہ جوئی سے کام لیا گیا تھا۔بہرحال جبکہ یہ خود انکار کر چکا ہے اور اس فیصلہ کو رد کر چکا ہے تواب اس وقت اس کا پھراسی دعا پر زور دینا شرارت نہیں تو اور کیا ہے ؟ کیا اسے معلوم نہیں کہ اس وقت اس نے اس طریق فیصلہ سے انکار کر دیا تھا اس کا اشتہار جو اس نے حضرت اقدسؑ کی وفات کے بعد دیا ہے ظاہر کرتا ہے کہ اس نے محض دھوکادہی سے کام لیا ہے۔کیونکہ اس میں اس نے مان لياہے کہ میں نے اس وقت اس طریق فیصلے سے انکار کر دیا تھا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر حضرت کی وفات کو اس دعا کی بنا ء پر قرار دیتا ہے۔کیونکہ باوجود اقرار کرنے کے کہ میں نے انکار کر دیا تھا پھر اپنی سچائی ظاہر کرتا ہے۔کیا یہ اتنی بات لکھنے سے بھی قاصر ہے کہ اسی مباہلہ یا دعاکی ضرورت تو سچے اور جھوٹے کے فیصلہ کے لئے تھی۔اور اسی لئے تھی کہ کاذب اور اس کے ساتھیوں پر حجت قائم ہو جائے اور وہ گمراہی سے بچ جائیں مگر جب اس نے اس فیصلہ سے صاف انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ ہمارے لئے کوئی حجت نہیں تو پھر اگر اس دعا کا اثر اس پر پڑتا اور یہ کسی عذاب میں مبتلا ہو تاتو صاف جواب دیتا کہ میں نے تو صاف انکار کردیا تھا کہ یہ فیصلہ مجھے قبول نہیں پھر اس کے اثر کے کیا معنی اور اگر یہ حضرت کی زندگی میں مر جاتا تو اس کے چیلے لکھتے کہ ہمارا گرو اس فیصلے سے انکار کر چکا ہے۔اس لئے ہم پر اس کی موت سے کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔پس جب خوداسی کے انکار سے واقعات کا پلو بالکل بدل گیا ہے تو اب اس کا حضرت صاحب کی