انوارالعلوم (جلد 1) — Page 117
سے ٹال دے اور تم ان مصیبتوں سے بچ جاؤ جو قریب ہے کہ خدا کے وعدہ کے مطابق دنیا کو گھیر لیں اور قیامت کا نظارہ تمہاری نظروں کے سامنے پھر جائے۔یہ نہ خیال کرو کہ ابھی عذاب کے آنےمیں دیر ہے بلکہ سچائی کی مخالفت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔اور حق کے طرف داروں کو اس قدر دکھادیا گیا ہے کہ شاید جب سے دنیا پیدا ہوئی ایسا بھی نہیں کیا گیا ہو گا۔اور وہ جنہوں نے خدا کے رسول کاساتھ دیا اس قدر ستائے گئے ہیں کہ ممکن نہیں کہ ان کی آہیں آسمان تک نہ پہنچی ہوں۔اور اس خدا کے برگزیدہ کی وفات کے بعد جبکہ چار لاکھ احمدی اپنے روحانی باپ کے سائے سے جدا ہو گئےاس قدر دشنام دہی اور سخت زبانی سے کام لیا گیا ہے اور اتنی ایذا رسانی کی گئی ہے کہ اس کا پورا علم خدا کے سوا اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔پس جبکہ ایک یتیم کے رونے کی آواز سے عرش عظیم کانپ جاتاہے تو کیا چار لاکھ انسانوں کی دل آزاری سے اس میں جنبش نہ آئی ہوگی۔خد اکاوعدہ اس کے رسول کی معرفت ہمیں پہنچ چکا ہے اور ہمیں اپنے وجود سے بڑھ کر اس پر یقین ہے۔اور ضرور ہے کہ ایک دن ان تمام ظلموں اور دکھوں کا بدلہ لیا جائے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ طاعون ابھی ملک سے رخصت نہیں ہوئی اور آئے دن کے زلزلے ایک بڑے زلزلہ کی پیشگوئی کر رہے ہیں کہ جس کی نسبت خدا کار سول پہلے سے اطلاع دے چکا ہے۔پس اے نادانو خد اکے دن کے آنے سے پہلے توبہ کرو کیونکہ اس وقت جبکہ عذاب سرپر آپہنچاتوبہ قبول نہیں ہوتی اور گریہ و زاری سے فائدہ ہو جاتی ہے۔پس تدبر کرو۔اور قرآن شریف کی اس آیت پر غور کر کے نصیحت پکڑو وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْمُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًاؕ-كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًابنی اسرائیل : ۵۹ یعنی کوئی بستی ایسی نہیں کہ جس کو قیامت سے پہلے ہم ہلاک نہ کر دیں یا سخت عذاب میں مبتلا نہ کریں۔اور یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے امور حضرت مسیح موعودؑکو خبر دی گئی ہے کہ یہ وعدہ نہیں ٹلے گا جب تک کہ خون کی ندیاں نہ بہادی جائیں۔پس یہ وقت ہے کہ اپنے دلوں کو سنوارو اور تقویٰ اور طہارت اختیار کرو تاکہ خدا کے دن کےآنےسےپہلےتمہارا نام مغضوبین سے کاٹ دیا جائے۔تم کھتے ہو کہ ہمارا اس سلسلے سے کوئی دنیاوی مقصد ہےاوردنیاوی لالچ نے ہمیں اس کام کے لئے مجبور کیا ہے مگر میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح موعودؑکی دعاؤں نے ہمارے دلوں کو تمہارے لئے بے قرار کر دیا۔ہم نے تمہارے لئے اس کی تڑپ مشاہدہ کی اور ہمارے دل بھی غمگین ہو گئے۔ان کے کلام کو پڑ ھو اور غور کرو کہ اس کا دل تمهارےلئے کیسا بے چین تھا۔