انوارالعلوم (جلد 1) — Page 88
اگرچہ الہام الٰہی صاف طور سے آپ کی وفات کی خبر دے رہے تھے لیکن بوجہ محبت کے اس طرف خیال نہ جاتا تھا کہ اتنی جلدی آپ کی وفات ہوئی۔مگر حضرت اقدس سمجھ چکے تھے کہ میری وفات قریب ہے چنانچہ یہ بات الوصیت سے صاف طور سے ظاہر ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد وقتاً فوقتاً گھر میں اس کا ذکر کرتے رہے تھے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو متواتر خبر مل رہی ہے کہ تیری وفات قریب ہے۔غرضیکہ یہ آپ کی وفات ہے جس نے مجھ کو اس رسالہ کے لکھنے کی تحریک کی ہے۔اور چونکہ مخالفین سلسلہ نے اپنی پرانی عادت کے مطابق اس موقعہ پر بھی بہت کچھ زہر اگلا ہے اور اپنے نفسانی گندوں کا اظہار کیا ہے اور حضرت کی وفات پر بہت کچھ اعتراض کئے ہیں۔اس لئے راقم عاجز کےدل میں خداوند تعالیٰ نے یہ تحریک پیدا کی کہ میں ان تمام اعتراضوں کا جو مجھ تک پہنچے ہیں اور عام طور پر شائع کئے جاتے ہیں جواب دوں اور حتی الوسع مخالفین کی خباثت کو ظاہر کروں کہ وہ کن کن فریبوں اور جھوٹوں سے کام لیتے ہیں چنانچہ اس رسالہ میں علاوہ دیگر مفید باتوں کے عبدالحکیم مرتد اور ثنا ء اللہ کی لن ترانیوں کے جواب بھی دیئے گئے ہیں اور جو حضرت اقدسؑ کی پالیسیوں پراعتراض کئے جاتےہیں ان کاردّ بھی کیا گیا ہے۔وما توفيقي إلا بالله العلي العظيم والسلام خاکسار مرزا بشیر الدین محموداحمد