انوارالعلوم (جلد 1) — Page 82
یہ لوگ اپنی شوخی کی وجہ سے یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کیا خدا بھی کبھی کبھی خوش ہو کر اپنے بندوں سے ملاقات کرتا ہے مگر ان دریدہ دہن مخالفوں کو اس وقت یہ بات بھول جاتی ہے کہ پرمیشور بھی ایک زمانہ میں رشیوں کے ساتھ ملاقاتیں کیا کرتا تھا اگر وہ کوئی عیب کی بات نہیں تو یہ بھی نہیں۔میں افسوس کرتا ہوں کہ ان لوگوں کو قطعاً خیال نہیں آتا کہ ایک مردے اور زندے کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے یا ایک اندھے یا سوجا کے کاکیاجوڑہے اگر دوسرے مذہب مردہ ہیں تو اسلام زندہ ہے کیونکہ وہ اس زندگی کے پانی سے محروم ہیں جو کہ وحی کے رنگ میں اسلام میں ہر دم تازه روح پھونکتا ہے اور دوسرے مذاہب اگر اندھے ہیں تو یہ اسلام سوجا کھا ہے کیونکہ دوسرے مذاہب کی روحانی آنکھیں وحی کی روشنی سے محروم ہیں اوراسلام کی آنکھوں میں دن رات وحی و الہام کی روشنی کا سرمہ ڈالا جاتا ہے اگر انسان غور کرے تو یہ بات سمجھ میں آنی کچھ مشکل نہیں ہے کہ وحی کے بغیر محبت کامل ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ کیا ثبوت ہےکہ خدا قادر ہے اور وہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے جب کہ ہم کو کوئی جواب ہی نہیں ملتا تو ہمارےپاس اس کے ہونے نہ ہونے کی کیا دلیل ہے اور جبکہ ہم کو اس کے وجود کا یقین نہیں تو اس سےہماری محبت کامل کیونکر ہو سکتی ہے؟ اس محبت کے کامل ہونے کے لئے الہام کی سخت ضرورت ہےاور یہ زندہ ثبوت اسلام کے پاس ایسا موجود ہے جس کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب کچھ بھی نہیں پیش کر سکتے۔اگر غور کیا جائے تو وہی ایک پانی کے چشمہ کی طرح ہے اور مذاہب درختوں کی طرح۔پس اسلام تو وہ درخت ہے جو کہ عین چشمے میں کھڑا ہے اور جس کی جڑوں میں ہر وقت پانی جذب ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ درخت تازہ اور سرسبز رہتا ہے اس کی ٹہنیاں نرم پتے سبز پھول خوشبودار اور کچل شیریں اور تازہ ہیں مگر دوسرے مذاہب اس درخت کی طرح ہیں جو کہ پانی کی بہت ضرورت رکھتا ہو اور خشکی سے اس کی چھال گر رہی ہو اور جس کے اردگرد کوسوں تک پانی کا نام و نشاں نہ ہو اور جس کے پتے گر گئے ہوں پھل کبھی لگاہی نہ ہو پس کیا وہ درخت جو کہ چشمہ میں ہے نفع رساں ہے یا وہ جو کہ خشک کھڑا ہے۔سبز درخت سے تو بہت فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں مگراس درخت ِخشک سے سوائے ایندھن کے اور کیا کام لیا جاسکتا ہے۔اب میں اپنے مضمون کے خاتمہ پر ہو گیا ہوں کیونکہ میں نے ثابت کیا ہے کہ غیر مذاہب کے خدااس قابل نہیں ہیں کہ ان سے محبت کی جائے اور ان کی تعلیم ایسی ناقص ہے کہ انسان اس پر عملدرآمدنہیں کر سکتا مگر ساتھ ہی یہ بھی ثابت کر چکا ہوں کہ اسلام پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا اور اسلام کی تعلیم انسانی فطرت کے مطابق ہے اور خدا قادر