انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 75

اسلام کو سچا قرار دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ اس مذہب میں کفارہ کا عقیده باطل سمجھا جاتا ہے اور اس کے لئے کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں صرف اتنا لکھنا کافی ہے کہ قرآن شریف میں جو کہ مسلمانوں کی پاک کتاب ہے اور جس پر ایمان لانا ہر ایک مسلمان کافرض ہے اور جس سے کسی مسئلہ کی نسبت بھی باوجوداس علم کے کہ وہ قرآن شریف میں ہےیہ کہنا کہ ہم اس کو نہیں مانتے کفر ہے۔اس کے متعلق صاف طور سے یہ علم ہے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى (بنی اسرائیل:۱۶) یعنی کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص کوئی گناہ کرے اور دوسرا اس کو اپنے ذمہ لے لے اور درحقیقت ایسانہ ہو تولوگ خدا کا بھی انکار کر بیٹھیں اور ان کو سخت ابتلا پیش آویں کیونکہ اس طرح مذہب کھیل بن جاتاہے اور انصاف میں فرق آتا ہے پس اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کو ناجائز ٹھہرایا ہے اور اس بد نمادھبہ سے اسلام کا چہرہ بالکل پاک و صاف ہے۔اب خدا کے رحمان ہونے کا سوال ہے کہ آیا خدا رحمان ہے یا نہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ صفت رحمانیت کا بہت سے مذاہب انکار کرتے ہیں مثلاًعیسائی ہنود آریہ وغیرہ اور ان کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ جو کچھ عطا کرتا ہے وہ صرف ہمارے اعمال کے بدلہ میں ہو تا ہے اور کوئی گناہ بخشا نہیں جاتا جب تک کہ اس کی سزا نہ مل جائے اور اس لئےعیسائیوں کو کفارہ کا مسئلہ ایجاد کرنا پڑا ہے یا یہ کہو کہ کفارہ کی تصدیق کے لئے خدا کی رحمانیت کااقرار کیا گیا ہے اور ہنود آریہ اور بدھ مذہب وغیرہ کو خدا کی رحمانیت سے انکار کر کے تناسخ کا بعید ازعقل عقیده ماننا پڑا ہے کیونکہ ان کو یہ مشکلات پیش آئی ہیں کہ چونکہ انسان ضعیف ہے اس لئے وہ گناہوں میں دھنسا رہتا ہے اور اگر اس کی سزا میں اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو پھر تمام لوگ دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے اور اس طرح نجات تا ممکن ہو جائے گی پس انہوں نے سوچ کر یہ تناسخ کا مسٗلہ نکالا کہ اس دنیا میں ہی بار بار اسے گناہوں کی سزا ملتی ہے اور ہر ایک گناہ یا ہر ایک نیکی کی وجہ سے انسان بری یا اچھی جو نوں میں ہمیشہ جنم لیتا رہتا ہے مگر اس عقیدہ کو ہم غلط ثابت کر چکے ہیں اور یہ بھی بتا چکے ہیں کہ اسلام نے صفت رحمانیت کی تائید میں بہت زور دیا ہے اور برخلاف دوسرے مذاہب کے اس صفت کو خدا کے لئے ضروری ٹهہرایا ہے بلکہ قرآن شریف کے شروع ہی میں بسم الله الرحمن الرحيم سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام میں انسان کی زندگی کے لئے یہ صفت لازمی اور ضروری ہے اور بغیر اس کے انسان کی زندگی محال بلکہ ناممکن ہے کیونکہ خدا کی صفت رحمانیت وہ ہے جس کی وجہ سے خد ا بغیر کسی کام کے