انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 60

اس زمانہ میں کئی ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ ایک مرد نے اپنی بیوی کو دوسرے سے بے حجاب با تیں کرتے ہوئے دیکھ کر ہی اس کو قتل کر دیا اورجبکہ اتنی بات ہی انسان کی غیرت برداشت نہیں کر سکتی تو زنا کی حالت دیکھ کر وہ کب برداشت کرسکے گا۔اور اسی حالت کو دیکھ کر ہماری مہربان گورنمنٹ نے بھی ایسے موقعوں کے لئے کچھ رعایت کر دی ہے اور ایسا آدمی جو کہ غیرت میں اگر کوئی خون کر بیٹھتا ہے اس کے لئے سزا میں بھی کچھ نرمی رکھی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ انسانی فطرت ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ ایسے موقع پر ایک قدرتی جوش پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کبھی برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ اس کی بیوی اور مرد سے ہم بستر ہو۔ایک عرصہ ہوا کہ ایک مقدمہ اس قسم کا پیش ہوا تھا جس میں ایک شخص پر اس لئے کاروائی چلائی گئی تھی کہ اس نے اپنی بیوی کو زنا کی حالت میں دیکھ کر قتل کر دیا تھا اور ماتحت عدالت نے اس کو سخت سزا کا حکم دیا مگر اپیل ہونے پر جج نے فیصلہ دیا کہ در حقیقت یہ ایسا موقع ہوتا ہے کہ انسان غصہ کو برداشت نہیں کر سکتا میں اس کے لئے یہ سزا مناسب نہیں سمجھتا بلکہ اگر وہ عورت پہلی ضرب میں مرجائی تو میں اس کو سزا قریباًنہ ہی دیتا مگر چونکہ کئی ضربات سے عورت مری ہے اس لئےمیں کچھ سزا اس کو دیتا ہوں۔اب دیکھنا چاہئے کہ انسانی فطرت اس عقیدہ کے بر خلاف ہے جیساکہ گورنمنٹ کے قانون سے اور روز مرہ کے حالات سے ظاہر ہو تا ہے اور خود آریہ مت کے پیروان بھی اس نیوگ کے عقیدہ پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر یہ عقیدہ عملی رنگ میں لانے کےلئے نہ معلوم پنڈت دیانند نے کیوں پیش کیاشاید اس میں کوئی خاص غرض ہو جس کو ہم نہ سمجھ سکتےہوں ورنہ اور کوئی بات تو نظر نہیں آتی۔اور جب مخلوقات عالم پر نظر کرتے ہیں تو سراسر اس عقیدہ کے بر خلاف نظر آتا ہے انسانی فطرت اس کو برداشت نہیں کر سکتی عقل اس کو نہیں سمجھ سکتی اور یہاں تک کہ جانور تک اس کوپسند نہیں کرتے کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک مرغا کچھ مرغیوں میں پھر رہا ہو تا ہے اس وقت اگر کوئی اور مرغاان میں آکر داخل ہو جائے تو خواہوه کمزور ہی کیوں نہ ہو اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اسی طرح کتّا بھی جب اس کے سامنے کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو دوسرے کتّے پر حملہ کرتا ہے۔پس جب جانور تک اس بات کو پرامناتے ہیں تو انسانی فطرت اس کو کیونکر برداشت کر سکتی ہے یہ مسئلہ ایسا نہیں تھا کہ اس کو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا اس کو دنیا میں مشتہر کرنے سے آریہ مت نے دنیا پرزنا کاری کا دروازہ کھول دیا ہے اور انسانوں کی اخلاقی حالت پر ایک سخت خوفناک حملہ کیا ہے اور چونکہ یہ ایک گندہ مسئلہ ہے اس لئے اس پر زیادہ لکھنا هم مناسب نہیں سمجھتے اور ان کے ایک اور