انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 653 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 653

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد کی ۱۳/مارچ ۱۹۱۴ء کی مسجد نور میں تقریر (بعد نماز عصر) اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمداعبدہ و رسولہ اس وقت میں سب دوستوں کی خدمت میں چھوٹی سی عرض کرنی چاہتا ہوں۔اور سچے دل سےنصیحت کرنی چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی منشا کے ماتحت حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہو گئے ہیں۔اللہ تعال ان پر بڑے بڑے رحم فرمائے۔اپنی برکتیں ان پر نازل کرے۔اعلیٰ سے اعلی ٰمدارج پر انہیں ترقی دے اور وہ انہیں ان کے حقیقی دوست محبّ اور پیارے جن سے انہیں ساری عمر محبت رہی جن کی محبت بلاشبہ انکے رگ و ریشے میں تھی۔یعنی آنحضرتﷺ اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان دونوں پیاروں کے ساتھ جگہ دے۔(مسجد آمین کی آواز سے گونج اٹھی) اس وقت احمدی جماعت کے اوپر بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے یہ ذمہ داری ہر بچہ و جوان اوربوڑھے پر ہے۔ساری جماعت ایک امتحان کے نیچے ہے۔وہ جو اس امتحان میں کامیاب ہو گیا اورپاس ہو گیا۔خدا کا پسندید ہ او ر پیارا ہو گا۔اور جو اس امتحان میں فیل ہو گیا۔وو خدا تعالیٰ کے حضور نیکو کاروں میں نہیں گنا جائے گا۔ہم پر ایک ذمہ داری ہے ایک بوجھ ہے اس کو اٹھانے اور اس ذمہ داری میں پاس ہونے کےلئے خوب تیاری کرنی چاہئے۔خوب یاد رکھو کہ کوئی کام کتناہی اعلیٰ سے اعلیٰ اور عمدہ سے عمدہ ہو