انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 38

اور کسی کو نہ ملے باقی تمام فرتے اور تمام قومیں باوجود اقرار کرنے کے کہ یہودی مذہب سچا اور خدا کی طرف سے ہے اس بات سے محروم رہیں کہ وہ خدا کی محبت کی لذت اٹھائیں۔پھر جبکہ یہودیوں پر ہی نجات کا ملنا نہ ملنا مختصر ہے تو جزا و سزا اور حشر و نشر وغیرہ بالکل بیہودہ اور لغو ہو جاتے ہیں اور اسی لے یہودیوں کے بعض فرقے بالکل انکار کر بیٹھے ہیں کہ کبھی جزاء و سزا کا کوئی دن آوے گا۔اور انہوں نے یہی نہیں کیا کہ جزاء و سزا کا انکار کریں بلکہ ان کے خیال میں مذہب کوئی چیز نہیں صرف کچھ قوانین ہیں تاکہ بنی نوع انسان میں انتظام قائم رہے۔پس ایسے لوگوں کا ذکر کرنے کی کوئی |ضرورت نہیں جنہوں نے مذہب کو ایک معمولی قوانین کا مجموعہ قرار دیا ہے۔کیونکہ اگر ایسا ہو تاتودنیا میں کبھی کوئی سلطنت اس دو ہزار سال کے عرصہ میں رہ ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ اس عرصہ کےدر میان کوئی یہودی سلطنت ہوئی ہی نہیں پھر یہ انتظام چو ہے تو کیو نکر قائم رہا اور اگر یہ کہیں کہ عیسائی بھی تو ریت پر ایمان رکھتے ہیں ان کی سلطنت یہودیوں کی سلطنت ہی ہے تو یہ غلط ہے۔کیونکہ ان کو تو بزعم خود کسی شریعت کی ضرورت ہی نہیں اور ان کو اجازت ہے کہ سوائے چند باتوں کے جوکہ حواریوں کی کونسل نے قرار دی ہیں اور سب کام کریں اور جس طرح دل چاہے عمل کریں ان کے گناہوں کا بوجھ تو بیچارے کی گردن پر رکھا گیا ہے۔اور یہ بالکل آزاد ہیں پھر عیسائیوں کی سلطنت کو اپنے اصول کے مطابق سمجھنا خلاف واقعہ ہو گا۔اور اس کے علاوہ عیسائی سلطنتیں کہیں قصور معاف کرتی ہیں تو کہیں سزا دیتی ہیں حالانکہ توریت میں ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ لو کہ دنیا عبرت حاصل کرے۔پس عیسائی سلطنتوں کو اپنے میں شامل کرنا تو کسی طرح بجا ہی نہیں ، اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں بغیر تعلیم موسوی کے بھی انتظام چل سکتاہے۔اور دوسری قومیں بھی اس قابل ہیں کہ وہ بغیر توریت کی مدد کے دنیا کا انتظام چلاویں پس ہم اب ان فرقوں پر نظر ڈالتے ہیں جو کہ جزاء و سزا کے قائل ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ ایک دن ایسابھی آنے والا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کے رو برو لوگ اپنے اعمال کا حساب دیں گے اور وہ کام جو کہ انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے ان کا بدلہ ان کو ملے گا مگر یہاں پھر یہ اعتراض آتا ہے کہ جب یہودیوں کیلئے نجات لازم ہے اور دوسروں کے لئے حرام تو جزاء و سزا کے دن کی ضرورت ہی کیاہے ؟ کیونکہ جزاء و سزا اس لئے ہے کہ وہاں بھلے اور برے میں فرق کر کے دکھایا جائے اور ظاہر کیاجائے کہ فلاں نے بہت عمدہ کام کیا اور فلاں نے بہت برا اور اس لئے اس کو جو کہ نیک اور شریف تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ یہ