انوارالعلوم (جلد 1) — Page 591
تاک میں لگے رہتے تھے کہ کو ئی موقعہ ملے توہم آپؐ پراعتراض کریں۔کو ئی نہ کوئی راہ نکال کر ذوالخو یصرہ التیمی نے عین تقسیم کے وقت بڑھ کر کہاکہ آپؐ اس تقسیم میں عدل کو مدنظر رکھیں جس سے اس کی مرادیہ تھی کہ آپؐ اس وقت عدل سے کام نہیں لے رہے امام بخاری صاحب نے اس واقعہ کو حضرت جابرؓ سے یوں روایت کیا ہے کہ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ:حَدَّثَنَا قُرَّۃٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو ابْنُ دِیْنَارٍ، عَنْ جَابِراِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْسِمُ غَنِیْمَۃً بِالْجِعْرَانَۃِ، اِذْ قَالَ لَہٗ رَجُلٌ:اِعْدِلْ فَقَالَ لَہٗ:(لَقَدْ شَقِیْتَ اِنْ لَمْ اَعْدِلْ)۔(کتاب الجہاد باب ومن الدلیل علی ان الخمس لنوائب المسلمی)یعنی آنحضرت ﷺ اموال غنیمت کو جِعرا نہ کے مقام پر تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے آپؐ کو کہا کہ آپؐ عدل سے کام لیں۔آپؐ نے جواب دیا کہ اگر میں نے عدل نہیں کیا تو تُو بڑی بے برکتی اور بد بختی میں مبتلا ہو گیا۔اللہ اللہ !کیسے خطر ناک حملہ کا جواب وہ پا ک رسول ؐکس نرمی سے دیتا ہے کس حلم سے اسے سمجھاتا ہے۔آنحضرت ﷺسے جو عشق صحابہ کو تھا وہ ایسا نہ تھا کہ وہ ایسی با تیں برداشت کر سکتے۔بلکہ حضرت عمرؓ اور خالد بن ولید ؓتو ہمیشہ ایسے مواقع پر تلوارکھینچ کر کھڑے ہوجاتے تھے۔مگر آنحضرت ﷺ ان کو ہمیشہ روکتے رہتے تھے کہ ان لوگوں سے اعراض کرو۔پس ایسے وقت میں جبکہ مکہ کے حدیث العہد مسلمان جو ابھی ان آداب سے بالکل ناواقف تھے جو ایک رسول کے حضور بجالا نے ایک مومن کا فرض ہو تا ہے اور جو ایک ذرا سے اشارہ سے صراط مستقیم سے ہٹ کر کہیں کے کہیں پہنچ سکتے تھے آپؐ کے ارد گرد کھڑے تھے اور وہی وقت تھا جب انہوں نے یہ سبق سیکھنا تھا کہ رسول کریم ﷺ کے سا تھ ہمیں کس طرح عمل کر نا چاہیے۔ایک شخص کا آگے بڑھ کر نہایت بے حیا ئی سے آپؐ سے کہنا کہ حضورذرا عدل مد نظر رکھیں اور بے انصافی اور حق تلفی نہ کریں ایک خطر ناک فعل تھا۔جس سے ایک طرف تو ان قوانین کی خلاف ورزی ہو تی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ساتھ کلام کرنے کے متعلق بیان فر ما ئے ہیں۔دوسرے ان تمام مواعید پر پا نی پھر جا تا تھا جو اس شخص نے آنحضرت ﷺ کے حضور کیے تھے اور جو ہر ایک مسلمان کو مسلمان ہو نے کے لیے کرنے پڑتے ہیں۔تیسرے سیا سی لحاظ سے آپؐ کے رعب کو ایک خطر ناک نقصان پہنچا نے والے تھے۔اور چوتھے نومسلموں کے لیے ایک نہایت بد نظیر قائم کر نے والے تھے جن کے دل ابھی اس عزت کا خیال بھی نہیں کر سکتے تھے جو صحابہ ؓ کے دلوں میں بھری ہو ئی تھی۔پس وہ الفاظ جو ذوالخو یصرہ کے منہ سے اس وقت نکلے ایک دنیاوی دربارمیں