انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 579

ربیع بنت معوذ ؓسے روایت ہے کہ دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدَاۃَ بُنِیَ عَلَیَّ فَجَلَسَ عَلٰی فِرَاشِی کَمَجْلِسَکَ مِنِّیْ وَجُوَیْرِیَاتٌ یَضْرِبْنَ بِالدَّفِّ، یَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ اَبَآ ئِھِنَّ یَوْمَ بَدْرٍ حَتّٰی قَالَتْ جَارِیَۃٌ:وَفِیْنَانَبِیٌّ یَعْلَمُ مَا فِی غَدٍ،فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:(لَاَتَقُوْلِیْ ھٰکَذَا، وَقُوْلِیْ مَاکُنْتِ تَقُوْلِیْن)۔(بخاری کتاب المغازی باب قصہ غزوہ بدر) یعنی جس دن میری شادی ہو ئی ہے اس دن آنحضرت ؐمیرے پا س تشریف لا ئے اور میرے فرش پر بیٹھ گئے اسی طرح جس طرح تو بیٹھا ہے(یہ با ت راوی کو کہی) اور کچھ لڑکیاں دف بجارہی تھیں اور بدر کی جنگ میں جو ان کے بزرگ مارے گئے تھے ان کی تعریفیں بیان کر رہی تھیں یہاں تک کہ ایک لڑکی نے یہ مصرع پڑھنا شروع کیا(اس مصرع کا ترجمہ یہ ہے) کہ ہم میں ایک رسولؐ ہے جو کل کی با ت جانتا ہے۔اس بات کو سن کر آنحضرت ؐ نے اسے ٹوکا اور فر ما یا کہ یہ مت کہو اور جو کچھ پہلے گار ہی تھی وہی گا تی جا۔یہ وہ اخلاق ہیں جو انسان کو حیران کر دیتے ہیں اور وہ ششدر رہ جا تا ہے کہ ایک انسان ان تمام کمالات کا جا مع ہو سکتا ہے۔بے شک بہت سے لو گوں نے جن کی زبان تیز تھی یا قلم روا ں تھی تقریر و تحریر کے ذریعہ اعلیٰ اخلاق کے بہت سے نقشے کھینچے ہیں لیکن وہ انسان ایک ہی گزرا ہے جس نے صرف قول سے ہی نہیں بلکہ عمل سے اعلیٰ اخلاق کا نقشہ کھینچ دیا اور پھر ایسا نقشہ کہ اس کی یاد چشمِ بصیرت رکھنے والوں کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ایک طرف دنیا کو ہم اپنی تعریف و مدح کا ایسا شیدا دیکھتے ہیں کہ خلافِ واقعہ تعریفوں کے پل باندھ دیے جا تے ہیں اور جن کی مدح کی جاتی ہے بجائے نا پسند کر نے کے اس پر خوش ہوتے ہیں اور ایک طرف آنحضرت ؐکو دیکھتے ہیں کہ ذرا منہ سے ایسا کلام سنا کہ جو خلافِ واقعہ ہے تو باوجود اس کے کہ وہ اپنی ہی تعریف میں ہو تااس سے روک دیتے اور کبھی اسے سننا پسند نہ فرماتے (ببیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا۔)اہل دنیا کدھر کو جا رہے ہیں اور وہ ہمارا پیارا کدھر کو جا تا ہے۔اس میںکچھ شک نہیں کہ ایسے بھی لوگ پائے جا تے ہیں کہ جو اپنی تعریف کو پسند نہیں کر تے اور بے جاتعریف کر نے والے کو رو ک دیتے ہیں اور بادشاہوں میں سےبھی ایسے آدمی گزرے ہیں مگر آپ ؐ کے فعل اور لوگوں کے فعل میں ایک بہت بڑا فرق ہے جو آپ ؐ کے عمل کو دوسروں کے اعمال پر امتیاز عطا کر تا ہے۔انگلستان کے مؤرّخ اپنے ایک با دشاہ (کینئوٹ ) کے اس فعل کو کبھی اپنی یاد سے اترنے نہیں دیتے کہ اس نے اپنے بعض درباریوں کی بے جا خوشامد کو نا پسند کرکے انہیں ایسا سبق