انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 458

خبردار کو ئی ہم پر جہالت سے ظلم نہ کرے ورنہ ہم ظالموں کے ظلم کا سخت بدلہ دیں گے بِاَیِّ مَشِیْئَۃٍ عَمْرَو بْنَ ھِنْدٍ نَکُوْنُ لِقَیْلِکُمْ فِیْنَا قَطِیْنَا کس وجہ سے عمروبن ہند تو چاہتا ہے کہ ہم تیرے گورنر کے فرمانبردار ہو جا ئیں تُھَدِّدُنَا وَنُوْعِدُنَا رُوَیْدًا مَتٰی کُنَّا لِاُمِّکَ مَقْتَوِیْنَا تو ہمیں ڈراتا ہے اور دھمکاتا ہے جانے بھی دے ہم تیری ماں کے خادِم کب ہو ئے تھے فَاِنَّ قَنَاتَنَا یَا عُمْرُو اَعْیَتْ عَلَی الْاَعَدَآءِ قَبْلَکَ اَنْ تَلِیْنَا* اے عمرو ہمارے نیزوں نے انکار کیا ہے تجھ سے پہلے بھی کہ دشمنوں کے لیے نرم ہو جا ئیں ان اشعار کو دیکھو کس جوش کے سا تھ وہ بادشاہ کو ڈانٹتا ہے اور اپنی آزادی میں فرق آتا نہیں دیکھ سکتا۔جو حال بنی تغلب کا ان اشعار سے معلوم ہو تا ہے وہی حال قریباًقریباًسب عرب کا تھا اور خصوصاً قریش مکہ تو کسی کی ماتحتی کو ایک دم کے لیے بھی گوارہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں کعبہ کی ولا یت کی وجہ سے جو حکومت کل قبائل عرب پر تھی اس کی وجہ سے ان کے مزاج دوسرے عربوں کی نسبت زیا دہ آزاد تھے بلکہ وہ ایک حد تک خود حکومت کرنے کے عادی تھے اس لیے ان کا کسی شخص کی حکومت کا اقرارکر لینا تو بالکل امر محال تھا یہ وہ قوم تھی کہ جس میں رسول کریم ﷺ کا ظہور ہوااور پھر ایسے رنگ میں کہ آپ نے ان کی ایک نہیں دو نہیں تمام رسوم و عادات بلکہ تمام اعتقادات کا قلع قمع کر نا شروع کیا جس کے بدلہ میں ان کے دلوں میں آپؐ کی نسبت جو کچھ بغض و کینہ ہو گا وہ آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔مگر آپ ؐ کے اخلاق کو دیکھو کہ ایسی آزاد قوم باوجود ہزاروں کینوں اور بغضوں کے جب آپؐ کے سا تھ ملی ہےاسے اپنے سر پیر کا ہوش نہیں رہا و ہ سب خود سری بھول گئی اور آپؐ کے عشق میں کچھ ایسی مست ہو ئی کہ آزادی کے خیال خواب ہو گئے۔اور یا تو کسی کی ماتحتی کو برداشت نہ کرتی تھی یا آپؐ کی غلامی کو فخر سمجھنے لگی۔اللہ اللہ ! بڑے بڑے خونخوار اور وحشی عرب مذہبی جوش سے بھرے ہو ئے قومی غیرت سے دیوانہ ہو کر آپؐ کے خون کے پیاسے ہو کر آپ ؐکے پا س آتے تھے اور ایسے رام ہو تے تھے کہ آپ ہی کا کلمہ پڑھنے لگ جاتے۔حضرت عمرؓ جیسا تیز مزاج گھر سے یہ تہیہ کرکے نکلا کہ آج اس مدعی نبوت کا خاتمہ ہی کرکے آؤں گا۔غصہ سے بھرا ہوا تلوار کھینچے ہو ئے آپؐ کے پاس آتا ہے لیکن آپ ؐ کی نرمی اورو قارو سکینت اور اللہ تعالیٰ پر ایمان (‘‘سبعہ معلقّات’’قصیدہ پنجم از عمروبن کلثوم صفحہ37تا44 مطبع سعیدی کراچی نار محمد سعید اینڈ سنز)*