انوارالعلوم (جلد 1) — Page 416
خود وہ نظروں تک پہنچتا ہے اور باوجود اس کے کہ انسانی نظر کمزوری کی وجہ سے اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی وہ اپنی طاقت اورقوت کے اظہار سے وہ اپنی صفات کاملہ کے جلوہ سے اپنا وجود آپ انسان کو دکھاتا ہے اور گو نظر انسانی اس کو دیکھنے سے قاصر ہے۔مگر وہ خود اپنا وجود اپنی لاانتہاء قوتوں اور قدرتوں سے مختلف پیرائوں میں ظاہر کرتا ہے۔کبھی قہری نشانوں سے، کبھی انبیاء کے ذریعہ سے، کبھی آثار رحمت سے اور کچھ قبولیت دعا سے۔اب اس بات کے ثابت کرچکنے کے بعد کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ماننا اس بات پر منحصر کیا جائے کہ ہم اسے دکھا دیں اور سوائے دیکھنے کے کسی چیز کو مانا ہی نہ جائے تو دنیا کی قریباً 5/4 اشیاء کا انکار کرنا پڑیگا اور بعض فلاسفروں کے قول کے مطابق تو کل اشیاء کا۔کیونکہ ان کا مذہب ہے کہ دنیا میں کوئی چیز نظر نہیں آتی بلکہ صرف صفات ہی صفات نظر آتی ہیں۔اب میں اس طرح متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ کون سے دلائل ہیں جن سے وجود باری تعالیٰ کا پتہ لگتا ہے اور انسان کو یقین ہوتا ہے کہ میرا خالق کوئی اَور ہے اور میں ہی اپنا خالق نہیں۔دلیل اوّل:۔میں اپنے عقیدہ کے ماتحت کہ قرآن شریف نے کمالات روحانی کے حصول کے تمام ذرائع بیان فرمائے ہیں۔ہستی باری کے کل دلائل قرآن شریف سے ہی پیش کروں گا۔وَمِنَ اللّٰہِ التَّوْفِیْقُ اور چونکہ سب سے پہلا علم جو انسان کو اس دنیا میں آکر ہوتا ہے وہ کانوں سے ہوتا ہے۔اس لئے میں بھی سب سے پہلے سماعی دلیل ہی لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ قَدْاَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَذَکَرَاسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی۔اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔صُحُفِ اِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی(الاعلیٰ: 15-20) یعنی مظفر ومنصور ہوگیا وہ شخص کہ جو پاک ہوا اور اس نے اپنے رب کا زبان سے اقرار کیا اور پھر زبان سے ہی نہیں بلکہ عملی طور پر عبادت کرکے اپنے اقرار کا ثبوت دیا لیکن تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو حالانکہ انجام کار کی بہتری ہی اصل بہتری اور دیرپا ہے۔اور یہ بات صرف قرآن شریف ہی پیش نہیں کرتا بلکہ سب پہلی کتابوں میں یہ دعویٰ موجود ہے چنانچہ ابراہیم ؑاور موسیٰ نے جو تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی اس میں بھی یہ تعلیم موجود ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مخالفینِ قرآن پر یہ حجت پیش کی ہے کہ اپنی نفسانی خواہشوں سے بچنے والے خدا کی ذات کا اقرار کرنے والے اور پھراس کا سچا فرمانبردار بننے والے ہمیشہ کامیاب اور