انوارالعلوم (جلد 1) — Page 13
کی بیوی سے بھی ویسا ہی واقع پیش آیا۔کیوں کہ وہ کافروں سے تعلق رکھتی تھی۔پھر ہے وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ اور جب کہالقمان نے اپنے بیٹے کو جب کہ وہ اس کو نصیحت کرتا تھا کہ اے لڑکے اللہ سے شرک نہ کر کیوں کہ شرک ایک بڑا ظلم ہے۔اس جگہ خدا تعالیٰ لقمان کا کلام بتاتا ہے کہ وہ حکمت والا انسان یہ بات کہتاہے اور پھر اپنے لڑکے کو کہ جس کو اس نے اچھی بات ہی کہنی تھی اور پھر معمولی طور سے نہیں کہابلکہ وہ اس وقت اس کو نصیحت کرتا تھا تاکہ اس کی آئندہ زندگی ٹھیک ہو۔کہ اے بیٹے خدا سےشرک نہ کر کیوں کہ شرک جو ہے وہ ایک بڑا ظلم ہے۔ایک ایساخد اجو کہ ہم پر ہر طرح سے احسان کرتا ہے اور ہمارے نفع اور ضرر پر بھی قادر ہے۔اس کے ساتھ ہم اوروں کو برابر ٹھہرا ئیں کتنا ظلم ہے۔اب یہاں خیال رکھنا چاہئے کہ شرک سے مراد یہ نہیں کہ صرف لااله الاالله کہہ دیا اورپاک ہو گئے۔بلکہ حضرت لقمان فرماتے ہیں کہ کل شرک جلی اور خفی سے اپنے آپ کو بچا۔پھر آگےفرماتا ہے وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُیعنی میں نے انسان کو اس کے والدین کے حق میں وصیت کی ہے۔اس کی والدہ کس قدر تنگی اور سستی سے اس کا بار اٹھاتی ہے اور دو برس تک اس کو دودھ پلاتی ہے پس شکر کر میرا اور اپنے والدین کا میری طرف ہی لوٹنا ہے۔یہاں والد کا شکر کرنے کی وجہ بیان نہیں کی۔مگر وہ ظاہر ہے کہ جب اس کی والدہ تنگی میں ہوتی ہے تو وہ اس کی پرورش کرتا ہے اور جب یہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی بھی خبر گیری کرتا ہے۔پھر ایک اور بات ہے کہ خدا تعالیٰ یہاں فرماتا ہےکہ میرا شکر کرے۔یہاں کوئی وجہ تو بیان نہیں کی گئی تو انسان کیوں اس کا شکر کرے۔اصل بات یہ ہے کہ بچے کی محبت خدا تعالیٰ نے اس کو پیدا کرنے کے بعد اس کے والدین کے دل میں ایسی ڈال دی ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو پھر ایک دن زندہ نہ رہ سکتا۔پھر پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں میں دودھ اتر آتا ہے اسی طرح ہوا پانی و غیره۔پھر آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ورنہ میری طرف ہی آنا ہے اگرایسانہ کیا تو وہاں اس کی سزا بھگتو گے۔پھر ہے کہ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘-وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ماں باپ بھی جن کی تابعداری تم پر فرض کی گئی ہے اور جس کے نہ کرنے پر عذاب کی دھمکی دی گئی ہے وہ بھی اگرکہیں کہ مجھ سے شرک