انوارالعلوم (جلد 1) — Page 312
کرتاتو سب سے پہلے غیراحمدیوں کی عظیم الشان جماعت میں ملنے کی کوشش کرتا اور یہ تو ظاہر ہے کہ اس طرح حضرت صاحب کو جو گالیاں دی جاتی ہیں وہ کم ہو جائیں۔اور کون نہیں چاہتا کہ اس کےباپ کو لوگ گالیاں نہ دیں اور اس کے والد کی نسبت فحش الفاظ استعمال نہ کئے جائیں۔پس اگرآپ لوگ ان کو پیر سمجھ کر دشمنوں کے حملے سے بچانا چاہتے ہیں تو میرے ان سے دو رشتے ہیں۔وہ میرے والد بھی ہیں اور آقا اور پھر بھی لیکن میں نفاق پر موت کو ترجیح دیتا ہوں اور اس وقت سےپناہ مانگتا ہوں جب میں وہ بات کروں جو میرے دل میں نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی اس معاملہ میں نفرت چاہتا ہوں اور میں اسی سے مدد مانگتا ہوں کہ وہ مجھے گناہوں میں پڑنے سے بچائے۔میں جانتاہوں کہ کوئی مجھے گناہوں کی بھٹی سے نہیں بچا سکتا مگر اللہ اور مجھے کامل یقین ہے کہ من یهدی الله فلا مضل له و من يضللہ فلا ھادی له پس اس سے ہر قسم کی شرارت نفس اور خبث باطن سےپناہ مانگتے ہوئے میں نے اس کام کو کیا ہے اور میں اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے ضرور بچائے گااور ہر قسم کے ا بتلاؤں سے محفوظ رکھے گا۔غرضیکہ اے عزیزو! ہمارا ایمان ہے کہ حضرت صاحب خدا کے رسول تھے اور بأمور من اللہ تھے اور ہمارا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء ہمیشہ بھیجتا رہتا ہے اور نہ معلوم اور کتنے انبیاء آگےبھیجے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہمارا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم محمد رؤوف رحیم رسول اللہ خاتم النّبیّن کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آئے گا اور آپ ہر قسم کی نبوتوں کے خاتم ہیں اور آئندہ جس کو اللہ تعالیٰ تک رسوخ ہو گاوہ آپ ہی کی اطاعت کے دروازہ سے گزر کر ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ قل ان کنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله (آل عمران : ۳۲) اور اسی میں آپ کی عزت ہے ، کیونکہ کیا وہ شخص معزز کہلا سکتا ہے جس کے ماتحت کوئی بھی افسرنہ ہو۔بلکہ معزز وہی ہوتا ہے جس کے ماتحت بہت سے افسر ہوں۔دنیا میں ہی دیکھ لو کہ تم بادشاہ کے لقب کوزیادہ معزز جانتے ہو یا شہنشاہ کے لقب کو۔پس شہنشاہ کا لفظ اس لئے کہ اس میں بادشاہوں پرحکومت کا مفہوم پایا جاتا ہے بادشاہ پر معزز ہے ادنی ٰ نہیں۔اسی طرح ایسی نبوت جس کے ماتحت اورنبوتیں بھی ہوں اس نبوت سے اعلی ٰاور افضل ہے جس کے ماتحت اور نبوت کوئی نہ ہو۔کیا وہ شخص زیادہ معزز ہوگا جو دربار شاہی تک انسان کو پہنچا دے یا جو دروازہ پر ہی لے جا کر چھوڑ دے۔پس ہمارا یقین ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اپنی امت میں سے لوگوں کو اٹھا کر اعلیٰ مقامات پر پہنچادیتےہیں اور آپ ﷺکے ماتحت ہزاروں میں ہوں گے جو آپ کے ایک ایک لفظ کو قابل اطاعت جانیں