انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 311

لوگوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے۔او رو ہ مدت کے بچھڑے ہوؤں کی طرح ان سے لپٹ جاتے۔اور آپس کے اختلافات گلے لگ کر مٹائے جاتے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور حضرت صاحبؑ کا مہدویت کا رنگ غالب رہا۔سلسلہ کی حفاظت اور دشمن کے فریب کا قلع قمعاور عین مصیبت میں پڑ جانے کےوقت اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی اور کئی لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اگر ایک مأمور کے بھیجنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے اورانجام ایسا ہی ہوتا ہے او ر باوجود اس کے انکار کے پھر بھی انسان خدا تعالیٰ کا پیارا ہی رہتا ہے تو ہم کواس قدر مشکلات میں پڑ جانے کی کیاضرورت تھی اور کیوں خدا نے ایک مامور کو بھیج کر خواہ مخواہ ہم کو مصیبتوں میں ڈالا اور اپنوں اور بیگانوں کی نظر میں حقیر کیا اور کافر ٹھہرایا - انہوں نے خیال کیا کہ اگر ایک مأمور کا انکار ایسا ہی ایک چھوٹا سا انکار تھا اور خفیف بات تھی تو خدا نے یہ کیوں کہا کہ میں اس کے انکار کے بدلہ میں دنیا کو ہلاک و برباد کر دوں گا۔اور طرح طرح کے عذاب اس دنیا میں بھیجےاور لاکھوں انسانوں کو دیکھتے دیکھتے ہلاک کر دیا اور کیوں اتنی مدت تک ملک کے علماء و فضلاء کو اس کی مخالفت کی وجہ سے ذلت سے مارتا رہا۔اور کیا وجہ ہوئی کہ آج سے ہزاروں سال پہلے نبیوں کی زبان پر اس کی خبر دی اور انجیل میں اس کا ذکر کیا اور قرآن شریف میں اس کی بعثت کی نسبت پیشگوئی کی اور اگر یہ ایک معمولی بات تھی اور ایک فروعی سا فرق تھا تو کیوں اس نے خود اس کوالہام کے ذریعہ سے کہا کہ جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا إلى يوم القيامة یعنی وہ مسلمان جو تیرا انکار کرتے ہیں اور تیرے منکر ہیں ان کو رفتہ رفتہ کمزور کر دوں گا اور تجھے وہ عظمت دوں گا کہ تیرے پیرو ہمیشہ ان سے معزز رہیں گے اور ان باتوں کے سوچنے کے بعد ان کےدل بشاش ہو گئے اور انہوں نے جان لیا کہ عین گڑھے میں گرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے ہماری رہبری کی لیکن یہ شور بڑھتا گیا۔اور اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے مخالف کھلے طور پر اخباروں میں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس جدائی کو جانے دو اور ہم سے آملوگو مرزا صاحب سے دعاوی میں غلطی ہوئی۔اور ایسے موقع پر میں نے ضروری جانا کہ ایسے لوگوں کی دھوکہ دہی کو ظاہر کروں اوراس خطرہ ہے جو تعلق کے نیچے مخفی ہے انہیں آگاہ کروں اور اس معاملہ میں حضرت صاحب کی جو رائے ہے اس سے بھی ان کو مطلع کروں۔تاکہ وہ اپنے قدموں پر مضبوط ہو کر جم جائیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں اور میرے دل میں اس بات کے لکھنے میں کوئی نفاق کا شائبہ نہیں۔اگر میں نفاق کو پسند