انوارالعلوم (جلد 1) — Page 285
ذریعہ قرار دیتے ہیں خود یسوع بھی اس سے ناواقف تھا۔یسوع صلیب پر نہیں مراان سب باتوں کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ آیا یسوع صلیب پر فوت بھی ہؤا تھا کہ نہیں اور چونکہ مسیحیوں کو قائل کرنے کے لئے سب سے بہتر ذریعہ اناجیل ہی ہیں اس لئے میں انہیں سے ہی روشنی ڈالتا ہوں۔یسوع کی صلیبی موت قطعا ًثابت نہیں بلکہ صلیب پر سے بچ جانا ثابت ہے۔متی باب ۲۷ میں ہے کہ جب یسوع حاکم کےسامنے لے جایا گیا تو اس نے اس سے بہت سے سوال کئے مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور اس پرحاکم بہت متعجب ہوا۔مگر اس کا دستور تھا کہ ہر عید پر ایک قیدی کو یہودیوں کی خاطر چھوڑ دیتا تھا۔اس نے یہودیوں سے پوچھا۔میں کس کو چھوڑوں۔بر ناباس کو جو ایک مشہور چور تھا یا یسوع کو۔کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ یسوع حسد کی وجہ سے پکڑایا گیا تھا۔یہودیوں نے بر ابا کو چھوڑنے کی درخواست کی۔اتنے میں حاکم کی بیوی نے آدمی بھیجاکہ خبردار اس نیک آدمی کو کچھ نہ کہنا کیونکہ میں نے آج رات کو اس کی وجہ سے بڑی تکالیف اٹھائی ہیں۔اس لئے پیلا طوس نے پھر یسوع کو بچانے کے لئے کوشش کی۔مگر یہودیوں نے نہ مانا تو اس نے ان سے پوچھا کہ کیوں اس نے کیا بدی کی کہ میں اسے صلیب پر لٹکاؤں انہوں نے کچھ جواب نہ دیا اور یہی شور مچایا کہ نہیں اسے صلیب دو۔تب اس نے سب یہودیوں کے سامنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ تم جو چاہو کرو۔میں اس راستبازکے خون سے بری ہوں اور اسے یہودیوں کے سپرد کر دیا۔جنھوں نے اسے جمعہ کے دن شام کےوقت صلیب پر لٹکادیا اور ابھی تین گھنٹہ نہ گزرنے پائے تھے کہ ایک بڑا زلزلہ آیا اور اند ھیرا چھاگیااور چونکہ یہودی سبت کے دن کسی کو صلیب پر نہ رکھ سکتے تھے۔اس لئے انہوں نے سب کو اتار لیا اور یوحنا کے بیان کے مطابق اس کے ساتھ جو دو چور صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی ہڈیاں توڑی گئیں۔مگر یسوع کی کوئی ہڈی نہ توڑی۔اور ایک شخص نے جب ان کے پہلو کو چهید اتواس میں سےخون نکلاپھر جیسا کہ متی لکھتا ہے۔یوسف آرمینیایسوع کا ایک شاگرد پیلاطوس کے پاس گیا۔اور اس سے اس کی لاش مانگی۔مگر پلا طوس نے بموجب بيان مرقس کے متعجب ہو کر شبہ کیا کہ کیا ووایسی جلدی مرگیا۔اور اسے اس کے سپرد کر دیا اس نے اسے ایک مکان میں جا کر ڈال دیا۔اور مریم مگدلینی و غیره دروازہ پر بیٹھی رہیں پھر یہودیوں کو شبہ ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ یسوع کے شاگر داسے چرا کر لےجائیں۔اور کہہ دیں کہ وہ زندہ ہو گیا اس لئے اپنے پردہ دار مقرر کئے۔مگر جب وہ گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پتھر قبر پر سے ڈھلکا ہوا ہے۔اور ایک آوی نے مریم مگدلیتی وغیرہ سے جو وہاں یسوع کے دیکھنے