انوارالعلوم (جلد 1) — Page 276
تثلیث کا ثبوت ہے۔لیکن وہ یہ نہیں ثابت کر سکتے کہ خدا تین ہیں اور کفار کے مسئلہ کے لئے سب سے پہلے ان کو یہی بات ثابت کرنی ضروری ہے کیونکہ جب تک تین خد ا ثابت نہ ہوں تو ایک خدا کا ان میں سے مصلوب ہونا باطل ٹھہرتا ہے اور گو محض مادی اشیاء اور عقلی دلائل سے خدا تعالیٰ کاوجود بھی ثابت کرنا ایک حد تک مشکل ہے لیکن اسے مان کر بھی یہ سب کائنات عالم اگر کسی پیداکرنے والے کو چاہتی ہے اور چونکہ کوئی مصنوع بغیر صانع کے نہیں ہوتا اس لئے کسی صانع عالم کے وجود کا اقرار کرنا پڑتا ہے لیکن اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی چاہئے کہ جواس عالم کی خالق ہو مگر یہ ثابت نہیں ہو تاکہ وہ ایک سے زیادہ ہستیاں ہیں۔اگر بفرض محال مانا جائےکہ وہ ایک سے زیادہ ہیں تو کیوں دو نہ مانی جائیں یا چار تصور نہ کی جائیں تین کی کیا خصوصیت ہے۔پس مسیحی صاحبان کے لئے اول تو تثلیث کا ثابت کر ناہی ناممکن ہے۔کیونکہ جو کچھ وہ ثبوت دےسکتے ہیں وہ ایک خدا کو ثابت کرتا ہے زیا دہ کون نہیں اور اگر ایک سے زیاده خدا تصور کئے جائیں تو پھرہر ایک کو حق ہے کہ وہ دو خدا مانے یا چار مانے یا پانچ مانے اس میں کوئی ہرج نہیں۔پس جبکہ تثلیث کا ثابت کرناہی مشکل ہے۔نہیں بلکہ اس کے لئے کوئی دلیل بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔تو پھرمسیح کا کفارہ آپ ہی باطل ہو گیا اور اگر وہ ان بھی لی جائے تو اب یہ وقت ہے کہ ایک کو باپ اورایک کو بیٹا کیوں مانا جائے۔یہ کسی دلیل سے ثابت ہے کہ ایک باپ ہو نا چاہئے۔اور ایک بیٹا اورایک روح القدس اور کیوں نہ کہا جائے کہ تینوں باپ ہی ہیں۔یا تینوں بیٹے ہی ہیں یا تینوں روح القدس ہی ہیں اور یہ کیوں خیال کیا جائے کہ مسیح بیٹا تھا کیوں نہ اس کو باپ تصور کیا جائے۔پس تثلیث کے مسئلہ کے بعد یہ بہت سے سوال ہیں جو حل کئے جانے ضروری ہیں اور پھر یہ سوال بھی حل کرنے کے قابل ہے کہ اگر تین ہی خدا ہیں اور ہے بھی ایک بیٹا اور ایک باپ اور ایک روح القدس تو پھر مسیح کو تیسراخدا کیوں مانا جائے اور لوگ بھی ہیں جو کہ مسیح سے بہت زیادہ کامیاب ہوئے ہیں ان کو کیوں نہ خدا خیال کیا جائے۔اور اگر مصیبتوں اور تکلیفوں کے اٹھانے پر ہی خدا کاوارو مدار ہے تو ایسے لوگ بھی کم نہیں جو اپنے ملک کو ترقی دینے کے لئے بڑے بڑے عذاب برداشت کر کے مرگئے ان کو اس مرتبہ سے کیوں محروم رکھا جائے۔اور اس کے علاوہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ آیا خودیسوع بھی اس کے لئے تیار تھا کہ نہیں اور اسے اس کی مرضی سے پھانسی پر لٹکایا گیا تھا ان پر دوستی اور اگر یہ سوال بھی حل ہو جائے تو پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا یسوع پھر صلیب پر مرابھی کہ نہیں۔کیونکہ اگر وہ پھانسی پر نہیں مرا تو سب کیا کر ایا خاک میں مل جائے گا اور جب اتنے