انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 255

درگاہ میں انعام کا مستحق ہو گا۔ہاں یہ خیال رہے کہ خدا تعالیٰ ظالمین کو پسند نہیں کرتا۔یعنی نہ ان کوجنہوں نے ظلم کیا اور نہ ان کو جنہوں نے اصلاح،عفو میں دیکھ کر پھر بھی سزادی اور نہ ان کو جنہوں نے بے حیائی سے کام لیا اور عفوسے دنیا میں اور بھی فساد پیدا کیا۔پس اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عفو اور رحم عدل سے زیاده عمدہ صفتیں ہیں اور اس سے اعلیٰ درجہ پر ہیں اور خود تجربہ ہم کو بتانا ہے کہ جب ہم عدل کرتے ہیں تو اس کے لئے ہم ایسے مشکور نہیں ہوتے جیسا کہ رحم کےوقت مثلاً ایک مزدور کو اس کی پوری مزدوری دے کر ہم شکریہ کے مستحق نہیں ہوتے ہیں جب ہم اس کو کچھ انعام بھی دے دیں تو اس وقت و ہ دل سے ہمارا شکریہ ادا کرتا ہے اور دوسرے لوگوں کی نظروں میں بھی ہم قابل تحسین ٹھہرتے ہیں یا جبکہ ایک شخص ہم کو گالیاں دیتا ہے یا مارتا ہے تو اگر ہم اس وقت عفو میں اصلاح دیکھ کر اس کو معاف کر دیں جس سے آئندہ اس کو نصیحت ہو جائے تو یہ ہمارا عیب نہیں سمجھا جائے گا۔بلکہ ایک خوبی ہوگی اور لوگ بجائے اس کے کہ ہم کو ظالم کہیں کہ ہم نے عدل نہیں کیا کہ مزدور کو بجائے آٹھ آنے کے روپیہ دے دیا اور قرض خواہ کو معاف کردیا اورہم کو تکلیف دینے والے کو بغیر تکلیف کے چھوڑ دیا بلکہ لوگ ہماری تعریف کریں گے اور ہم کو رحم ول قرار دیں گے۔اور بجائے نقص کے یہ فعل ہماری خوبی سمجھی جائے گی۔غرضیکہ انسان میں رحم کا مادہ ہے۔اور عمدہ سمجھا جا تا ہے۔اور عدل سے بہت بڑا درجہ رکھتا ہے۔اور حسب موقعہ رحم نہ کرنے والا ظالم تصور کیا جا تاہے ہیں جبکہ اس خوبی کو اپنے اندر دیکھتے اور روز مشاہدہ کرتے ہیں توپھر ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس خوبی سے محروم ہے اور اس کی صفات میں رحم کا کوئی مادہ نہیں۔پسں انسانی مشاہدہ ہم کو بتاتا ہے اور روز روشن کی طرح کھول دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ میں رحم کی صفت ضرور ہے ورنہ وہ ناقص ہو گا اور ناقص رات اپنے اندر آپ قائم نہیں رہ سکتی اور اس طرح خدا تعالیٰ کے وجود سے ہی انکار کرنا پڑے گا۔اور دہریت کی طرف رجوع کرنا ہو گایا کم سے کم یہ ماننا پڑے گا کہ جو نیک صفات ہم میں ہیں وہ خدا تعالیٰ میں نہیں اور بعض نیکیاں ایسی بھی ہیں کہ جن میں ہم خدا تعالیٰ سے بڑھ گئے ہیں۔اور یہ ایک سخت کفر اور شرک کا کلمہ ہے کہ جو ایک نیک آدمی کبھی بھی اپنی زبان پر نہیں لا سکتا۔غرض کہ اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ذات کے سمجھانے کے لئے ہم میں اپنی صفات کا ایک پر تو رکھا ہے جس سے کہ ہم نیکی اور بدی کو پہچان سکتے ہیں۔اور اندازہ کر سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف کونسی صفت کا منسوب کرنا خلاف شان ہے۔اور کونسی صفت کا اس سے الگ کرنا اس کے نقص پر دلیل ہے۔چنانچہ قرآن شریف سے میں نے