انوارالعلوم (جلد 1) — Page 239
اندر اندر تم کو تو انذار سنایا جائے گا۔اور موقعہ بد ر پر تم کو اس انکار کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔باقیوں کا معاملہ خدا کے سپرد ہے جب ان کا موقعہ آۓ گاان تک بھی یہ کلام پہنچ جائے گا۔ہاں تمہاراواقعہ ان کے لئے ایک عبرت کا کام دے گا۔چنانچہ ان لوگوں نے بدر کے موقعہ پر اپنی قسمت کا انجام دیکھ لیا اور کچھ مدت کے اندر اندر ہی اسلام دنیا میں پھیل گیا جو کہ ایک عقلمند کے لئے ایک بڑی آیت ہے۔جو مذکورہ بالا آیت کے مطابق پوری ہوئی۔پھر چوتھی آیت میں جس میں آنحضرت اﷺکے عہدہ کی میعاد بیان کی گئی ہے کہ کب تک آپ ﷺکا مذہب قائم رہے گا۔یہ ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ (سورة احزاب ۱ ۴) یعنی نہیں ہیں آنخضرت ﷺ تمهارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔اور رسول بھی کیسے کہ خاتم النبیّن ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے۔اور کوئی ذرہ بھی اس کے علم سے باہرنہیں۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آنحضرت تﷺ خاتم النبین ہیں۔اور آپﷺ کےبعد اب کوئی شخص نہیں آئے گا کہ جس کو ثبوت کے مقام پر کھڑا کیا جائے۔اور وہ آپ ﷺکی تعلیم کومنسوخ کردے اور نئی شریعت جاری کرے بلکہ جس قد ر اولیاء اللہ ہوں گے اور متقی اور پرہیز گارلوگ ہوں گے سب کو آپﷺ کی غلامی میں ہی ملے گا جو کچھ ملے گا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے بتادیا کہ آپ ﷺکی نبوت نہ صرف اس زمانہ کے لئے ہے۔بلکہ آئندہ بھی کوئی نبی اور نہیں آئے گا بلکہ اب ہمیشہ کے لئے آپ کی ہی تعلیم جاری رہے گی۔اور یہی لوگوں کی ہدایت کا موجب ہوگی جو اس سےباہر نکلے گا وہ درگاه الہٰی میں نہیں پہنچ سکے گا۔اس جگہ ایک اور نکتہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍعَلِیْمًا۠مگربظاا ہر اس جگہ اس کا جوڑ کوئی معلوم نہیں ہو تا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر باتیں بیان فرمائی ہیں وہ ظاہر ہیں۔ان کے لئے یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے کچھ ضروری نہ تھا۔سو اصل بات یہ ہے کہ یہاں آپ کے خاتم النبیّن ہونے کے متعلق ایک پیشگوئی ہے۔اور یہ کہ آنحضرتﷺ سے پہلے دنیا میں سینکڑوں نبی گذرے ہیں جن کو ہم جانتے ہیں۔اورجنہوں نے بڑی بڑی کامیابیاں دیکھیں بلکہ کوئی صدی نہیں معلوم ہوتی کہ جس میں ایک نہ ایک جگہ مدعی نبوت نظر نہ آتا ہو۔چنانچہ کرشنؑ، رام چندرؑ، بدھؑ، کنفیوشسؑ،ز رتشت ؑ،موسیٰؑ اور عیسیٰؑ تو ایسے ہیں کہ جن کے پیرو اب تک دنیا میں موجود ہیں۔اور بڑے زور سے اپنا کام کر رہے ہیں۔اور