انوارالعلوم (جلد 1) — Page 228
اسرائیل کی گم شدہ بھیٹریں کہلائے۔اور انہیں کے لئے مسیحؑ اپنے حواریوں کو حکم دیتا ہے کہ پہلے تم اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے پاس جا ؤمگر بر خلاف اس کے ہم دیکھتے ہیں۔کے حواریوں نےان گم شدہ بھیڑوں کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔بلکہ یسوع کے صلیب پر چڑھائے جانے کے بعدہی فوراً غیر قوموں کی طرف متوجہ ہو گئے۔جو کہ قطعاً ناجائز تھا۔پس اگر صرف منادی کے معنی ہی لئےجائیں تب بھی تو کام نہیں چلتا۔کیونکہ حواریوں نے یسوع کے حکم کے خلاف کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھی نہیں توجہ کی۔اور ان غریبوں کا خیال تک نہیں کیا۔بلکہ مالدار قوموں کے پھانسنے کی طرف متوجہ ہو گئے۔پس ان معنوں کی رو سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ کل یورپ و امریکہ کے مسیحی بے فائدہ اپنے آپ کو مسیح کہتے ہیں کیونکہ جب تک حواری کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش نہ کر لیتے۔ان میں تبلیغ کرنا ہی ان کے لئے ناجائز تھا۔اور یسوع کی اس کے لئے ممانعت تھی۔پس یورپ اور امریکہ کے لوگ تو ایشیا کے مسیح بنانے کی فکر میں ہیں۔اور انجیل سے معلوم ہو تا ہے کہ خودوہ بھی مسیح نہیں ہیں۔دوم مرقس باب ۷ آیت ۲۷،۲۶ میں لکھا ہے کہ ایک عورت جس کی لڑکی پر بھوت سوار تھایسوع کے پاس آئی اور یہ عورت یونانی تھی۔اور اس نے آکر اپنی لڑکی کے چنگا ہونے کی درخواست کی۔پھر یسوع نے اسے کہا کہ پہلے فرزندوں کو سیرہونے دے۔کیونکہ فرزندوں کی روٹی لے کےکتوں کے آگے ڈالنالائق نہیں\"۔پس اس جگہ سے بھی صاف معلوم ہو تا ہے کہ مذہب کی تلقین توالگ رہی۔یسوع تو ان سے معمولی مہربانی سے پیش آنا تک پسند نہیں کرتا۔بلکہ کہتا ہے کہ تم کتے ہو۔تمہارے آگے میں اپنے فرزندوں کی روٹی کیونکر ڈال دو۔پس ان آیات کو دیکھتے ہوئے بھی کون کہہ سکتا ہے کہ یسوع کامنشاء دیگر اقوام میں تبلیغ کرنے کا بھی تھا۔سوم حزقیل باب ۳۴آیت میں ہے کہ’’ میں اس کو جو کھویا گیاڈھونڈول گا۔اور اسے جو ہانکا گیا پھر لاؤں گا۔اور اس کی ہڈی کو جو ٹوٹ گئی ہے باندھوں گا اور پیار کو تقویت دوں گا ‘‘اس میں ایک پیشگوئی معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کے بارہ گھرانے اکٹھے کئے جائیں گے۔اور ان میں ایک نبی بھیجا جائے گا کہ جو کمزوروں کو طاقتور اور بیماروں کو ضعیف کردے گا۔اور اس کے ہاتھ پر پھربنی اسرائیل کی جماعت ایک ہو جائے گی۔چنانچہ بائبل کے حاشیہ پر اس کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اس پیشگوئی کا ذکر متی باب ۱۸ آیت ۱۰میں بھی ہے۔جس کے دیکھنے سے یہ عبارت نظر آتی ہے کہ ” ابن آدم آیا ہے کہ کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈ کے بچارے\" جس سے معلوم ہوا کہ حزقیل نبی نے جو