انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 198

مسیح نے کوئی دعوی ٰنہیں کیایاد رہے کہ ہر ایک بات کو ثابت کرنے کے لئے پہلے دعویٰ ہوتاہے پر دلیل پس لازم تھا کہ یسوع کی ا بنیت اور کفار کےمسئلہ کو پہلے تو انجیل سے ثابت کیا جائے مگر پادری صاحب نے انجیل کی ایک آیت بھی اس بارہ میں نہیں لکھی حالانکہ ان کا فرض تھا کہ وہ پہلے یہ بتاتے کہ انجیل میں مسیح نے یہ دعوی کیا ہے اور انہیں معنوں میں کیا ہے کہ جن میں مسیح صاحبان کرتے ہیں۔ہم تو انجیل میں کہیں یہ دعوے نہیں پاتےیسوع بیچارہ تو آپ لوگوں سے ڈرتا ہوا ہمیشہ اپنے آپ کو ابن آدم کے لفظ سے پکارتا ہے۔تاکہ احمق میری پیدائش کو عجیب خیال کر کے کہیں مجھ کو کچھ اور ہی نہ سمجھ لیں مگر مسیح صاحبان پھر بھی باز نہ آئے پس جب تک ابنیت کا دعویٰ او ردلائل انجیل سے ہی نہ بتائے جائیں تب تک تو مدعی سست اور گواہ چست والا معاملہ ہے یسوع تو اپنے آپ کو ابن آدم قرار دیاہے اور مسیح صاحبان زبردستی اسے خدا کی ولایت کا خلعت عطا فرماتے ہیں گویا کہ خدا کو مجبور کیا جا تا ہے کہ وہ ایک متبنّٰی بنائے۔مصلوب ہونے سے پہلی راتاسی طرح کفارہ کا حال ہے کہ اسکا بھی ذکر انجیل میں نہیں مگر مسیحیوں نے من مانے عیش اڑانے کے لئے اس مسئلہ کو گھڑ لیا ہے۔کیونکہ جب خداہی کسی کا بوجھ اپنے سر پر اٹھالے تو پھر اسے کیاپرواہ۔ادھر مسیحی اس زور سے کفارہ کا اعلان کرتے ہیں اور مسیح کو اپنی خوشی سے بنی نوع انسان پر قربان ہونے والاخیال کرتے ہیں اور یسوع کو دیکھیں تو وہ صلیب پر چڑھنے سے پہلے دردناک الفاظ میں خدا تعالیٰ سے اپیل کرتا ہے کہ للہ اگر کوئی صورت بچانے کی ہو تو اس پر عمل کیجیئے کیونکہ یہ گھڑی مجھ پر بہت سخت ہے۔حالانکہ اگر کفارہ کا مسئلہ ہوتا تو یسوع کو چاہیے تھا کہ اس دن عید مناتا اور ساری رات خوشی اور خرمی میں گزارتا کہ آج وہ مبارک دن آیا ہے کہ جس کے فراق میں گھڑیاں گننی مشکل ہو گئیں تھیں مگر اس کے بر خلاف وہ ر و تاہے وہ چلاتا ہے۔وہ آنے والی مصیبت کے خوف میں کبھی بیٹھتا ہے کبھی کھڑا ہوتا ہے کبھی زمین پر گر کرذلیل حالت بنا کر خدا کے حضور میں گڑگڑاتا ہے کہ اےباپ جس کے لئے میں نے بہت دکھ اٹھائے یہاں تک کہ مجھے کسی جگہ پر ٹهہرنا تک مشکل ہو گیا یہ مصیبت مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی اگر ہو سکے تو اس کو ٹال دے۔تو پھر گھبراہٹ میں اپنےحواریوں میں آتا ہے کہ اٹھو اور تم بھی دعاؤں میں مشغول ہو جاؤ کہ نا معلوم خد اکس کی سنے اورمیں مصیبت سے بچ جاؤں۔چنانچہ اسی لئے وہ شہر سے باہر ایک خفیہ جگہ میں جا کر بیٹھا رہا کہ کسی طرح