انوارالعلوم (جلد 1) — Page 194
ہے متی باب 5 آیت ۳۸ تا ۴۱ میں ہے کہ’’ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلےوانت پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرتا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دو سرابھی اس کے آگے پھیر دے اور اگر کوئی چاہے کہ تجھ پر نالش کرکے تیری قبالے،کرتے کو بھی اسے لینےدے اور جو تجھے ایک کوس بیگار لے جاوے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا ‘‘اب فرمایئے کہ عدل کہاں رہا۔توریت نے تو عدل کی تعلیم دی تھی مگر یسوع نے اسکو ایساتباہ کیا کہ عدل کا نام و نشان ہی نہ چھوڑا اب بتائے کہ اگر یہ تعلیم اچھی ہے تو بقول آپ کے کیا وہ نیکی جو انسان میں ہے وہ خدا میں ہیں اور اگر پری ہے تو مسیح مذہب کا تب بھی خاتمہ ہے پس سچی بات وہی ہے کہ جو اسلام نے بتائی ہے۔اسلام اصلاح چاہتاہے جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَاۚ-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (الشوری : ۴۱) یعنی تکلیف کا بدلہ اتنی ہی تکلیف ہے مگر جو بخش دے اور ایسی بخشش کرے کہ اس سے اصلاح ہو تو اس کو خدا تعالیٰٰ اعلیٰ اجر دے گا۔مگر یہ بھی یاد رہے کہ خدا تعالیٰ ظالمین کو پسند نہیں کر تایعنی نہ اس کو جس نے ظلم کیانہ اس کوجس نے باوجود اس کے کہ رحم میں اصلاح ہوتی تھی رحم نہ کیا اور نہ اس کو کہ جس نے ایسے موقعہ پر رحم کیا کہ وہ صریح طور سے فساد پیدا کرنے والا تھا پھر خدا تعالیٰٰ فرماتا ہے ولمن صبروغفر ان ذالك لمن عزم الأمور (الشوری :۴۴ ) یعنی جو اصلاح کے لئے صبر کرے اور چشم پوشی سے کام لئے اس نے بڑا عظیم الشان کام کیا اس سے پادری صاحب کا پہلا اعتراض بھی اٹھ جاتا ہے کہ مخلوق میں عزم نہیں خدا تعالیٰ ٰنے تو عزم پیدا کرنے کی ترکیب بھی بتادی کہ صبر اور چشم پوشی سے کام لو تو عزم کی صفت تم میں پیدا ہو جائے گی۔غرض کہ انسان میں عدل ادنی ٰدرجہ کی صفت ہے اور رحم اس سے اعلیٰ۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ ٰمالک قرار دیا گیا ہے پس مالک مختار ہے کہ جس کو چاہےچھوڑ دے ہاں بے گناہ کو وہ نہیں پڑتا کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ ماأنابظلام للعبيد (ق : ۳۰ )یعنی میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔کیاگور نمنٹ رحم نہیں کرتی؟اور یہ کہنا کہ گورنمنٹ رحم نہیں کرتی اس لئے خدا بھی نہیں کرے گا ٹھیک نہیں کیونکہ کسی گو ر نمنٹ کا کام حجت نہیں ہو سکتا ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی فطرت ایسا چاہتی ہے اور بقول آپ کے جو نیک صفت ہم میں ہووہ خدا تعالیٰ ٰمیں بدرجہ کمال ہونی چاہئے۔علاوہ اس کے یہ بات ہے کہ گورنمنٹ کے کام کا اثر ایک