انوارالعلوم (جلد 1) — Page 173
وہی کامیاب رہے۔ان سوداگروں میں سے سب سے بڑے ہمارے آنحضرتﷺ تھے۔جب آپ نے اس تجارت کوشروع کیا تو آپ ایک یتیم بچہ تھے کوئی آپ کو جانتا تک نہ تھا مگر خدا نے آپ کو دورّیتیم بنایا اور وہ مرتبہ دیا کہ اس وقت کروڑوں آدمی آپ کے نام پر جان دینے کو تیار ہیں آپ کو وہ چمک عنایت کی گئی کہ سورج کی روشنی ماند پڑ گئی۔آپ کو اس تجارت سے اس قدر فائدہ پہنچا کہ اب تک کہ تیرہ سوبرس گذر چکے ہیں آپ کے نام کی عزت کے لئے لوگ کوششیں کرتے ہیں۔چنانچہ آج جو ہم لوگ اس جگہ اکٹھے ہوئے ہیں تو صرف اس لئے کہ اس برگزیدہ نبی کا نام دنیا سے مٹا جا تا ہے اسے پھرروشن کریں پس جبکہ آپ نے اس آیت کے موجب سودا کر کے اس قدر نفع اٹھایا تو ہمیں بھی چاہئے کہ جب کبھی کوئی سوداکریں تو دیکھ لیں کہ آیا ہم سے پہلے آنخضرت اﷺ نے یہ سودا کیا تھاکہ نہیں کہ ہم بھی آپ کے قدم بقدم چل کر اسی طرح فائدہ اٹھائیں۔پس اگر ہم آپ کی خریدی ہوئی جنس کو خریدیں گے تو ضرور نفع اٹھائیں گے اور اگر وہ جنس خریدیں گے جو تم سے پہلےفرعون و ابو جہل نے خریدی تھی تو ضرور ہے کہ ہم اپنی آئند ہ زندگی سے بے توجہی کریں کیونکہ بت توجہی ایمان کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے اگر ایمان کامل ہو تو کبھی خدا کی طرف سے غفلت نہ ہو۔دیکھو ایک طالب علم کو یقین ہو تا ہے کہ میں ایک دن ضرور کامیاب ہوں گا اور ایک خاص امتحان پاس کر کے بہت عزت حاصل کروں گا اس کے لئے وہ راتوں کو جاگتا ہے اور اس کی غرض اس قدر ہوتی ہے کہ اس زندگی کے بقیہ ایام آرام سے گزر جائیں اور وہ یہاں تک محنت کرتاہےکہ بعض اوقات اس کو سل اوردق ہو جاتی ہے۔مزدور سارا دن محنت کرتا ہے۔و هوپ میں ٹوکری اٹھاتا اور سردی میں سرد گارے میں گھستا ہے یہاں تک کہ اس کا بدن ٹھٹھر جا تا ہے اور یہ سب اس امید میں کہ شام کو گھر میں جاکر آرام پائے گا۔پس اگر انسان کو ایمان ہو کہ اس دنیا کی تھوڑی سی زندگی میں اگر میں خدا کی بتائی ہوئی تجارت کروں گا تو ابد الآباد تک نفع اٹھاؤں گا تو وہ بے توجہی کیوں کرے۔پس اصل بات یہی ہے کہ گناہ گار انسان کو روز آخرت پر ایمان ہی نہیں ہو اگر اس کو ایمان ہو تو وہ بے توجہی کبھی نہ کرے۔پس انسان کو چاہئے کہ اپنے لئے وہ مال جمع کرے کہ جو اس کے کام آئے نہ دو کہ اس کے بعداس کے و ر ثا ء برباد کریں۔دنیا کا روپیہ اگر یہ جمع کرتا ہے تو اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاءاسے بے طرح لٹادیں گے اور ضائع کر دیں گے لیکن اگر یہ اس قرآن کی بتائی ہوئی تجارت کو کرتاہے تو اس سے وہ نفع اٹھائے گا کہ اس کے بعد کوئی اسے