انوارالعلوم (جلد 1) — Page 124
مسلمان تو طاعونی موت کو بموجب حدیث شریف کے ایک قسم کی شہادت جانتے ہیں۔پھر وہ کیوں تمہاری دعا پر بھروسہ کر کے طاعون زدہ کو کاذب جانیں گے۔اور ان وجوہات کو لکھ کر اور اس آسان فیصلہ سے پہلو بچا کر آپ ان الفاظ میں صاف طور سے اس دعا سے انکار کر چکے ہیں۔کہ مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔اگر تم اس حلف کے نتیجہ سے مجھے اطلاع دو۔اور یہ تحریر تمهاری مجھے منظور نہیں۔اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔*(اخبار الحد یث۲۶/ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۵،۶ ) اب دیکھنا چاہئے کہ مولوی ثناء اللہ نے اس دعا کے بعد اس فیصلہ سے صاف طور سے انکار کر دیا ہے۔اور لکھا ہے کہ اس فیصلے کا اثر سوائے میرے اور کس پر پڑ سکتا ہے۔پس مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔اور آپ لکھتے ہیں کہ اگر عذاب مقرر کر دیا جائے تو میں مرزا صاحب کے جھوٹے ہونے پر قسم کھا سکتا ہوں۔نہیں تو مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔حالانکہ بار بار لکھا گیا ہے کہ خدا کسی کے منہ کی بات پورا کرنے کا ذمہ دار نہیں۔اور قرآن شریف سے عذاب کی تعیین د عامیں ثابت نہیں ہوتی۔اور آپ نے یہ بھی لکھا کہ اس فیصلے کو کوئی د انا منظور نہیں کر سکتا۔اس پر مجھ کو بہت تعجب ہے۔کیونکہ اب جبکہ مرزا صاحبؑ فوت ہو گئے ہیں مولوی ثناء اللہ دنیا کو دھوکا دینے کے لئے کیوں اس دعا کو لوگوں کے سامنے فیصلہ کے لئے پیش کرتے ہیں۔کیادہ اس وقت دانا تھے۔اور اب جاہل مطلق ہو گئے ہیں۔کہ اب اس فیصلہ کو منظور کرنے لگے۔کیا وہ اپنی ہی تحریر کے مطابق اب جاہل مرکب نہیں ٹھہرتے اور ان کی حماقت میں کچھ شک رہ جاتا ہے؟ کیونکہ اس وقت تو وہ صاف طور سے انکار کر چکے ہیں اور لکھ چکے ہیں کہ کوئی دانا اس فیصلہ *اگر مسلمان اس وقت ایسا خیال کرتے ہیں۔تو آپ ڈرتے کیوں ہیں آپ کے ہی بھائی بند طاعون ملعون کالفظ لکھا کرتے ہیں۔اسوقت شاید اور حالت میں ہوتے ہوں گے۔حسدکابراہو یونہی ذکر کریں تو طاعون کو سوسو گالیاں دیں اور ہمارے مقابلہ پر آکر اس کو شہادت کی موت قرار دیں اگر یہ شہادت تھی تو حضرت عیسیٰ نے اپنے دوبارہ آنے کی نشانی یہ کیوں بتائی کہ اس وقت طاعون پڑے گی۔اگر اس کی موت ہر ایک کے لئے شہادت ہو تو مخالفین حضرت عیسیٰ تو اس موت سے آخرت کا توشہ جمع کر لیں گے۔افسوس یہ موت اگر شہادت ہے تو احمدیوں کے لئے کیونکہ ان کے نبی نے پہلے سے خبر دیدی تھی۔کہ اب عنقریب اس ملک میں طاعون پڑنے والی ہے۔اور وہ میری سچائی کا نشان ہوگی۔پس اگر صحابہ کی طرح کوئی احمدی بھی اس میں مبتلا ہو جائے تو اس کے لئے شہادت ہے۔نہ یہ کہ ملک کا ملک مرگیا۔اور کہہ دیا کہ شہادت نصیب ہوئی۔حالانکہ ایک مدعی نبوت اپنے آنے سے پہلے کہہ چکاہو کہ طاعون میری سچائی ثابت کرنے کے لئے آنے والی ہے۔فاعتبروا یا اولی الابصار *افسوس ان لوگوں کو کیا ہو گیا۔قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ مباہلہ کے لئے صرف اتنا کہنا چاہئے کہ مگر یہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عذاب کی تعیین کرو۔کیا یہ بد بخت اس بات کو نہیں سمجھتے کہ نبی کریم ﷺکے مخالفوں نے بھی تو کہاتھا فامطرعلینا حجارةمن السماء (الانفال : ۳۳) کیا ان پر یہی میں عذاب نازل ہوا تھا۔بلکہ انہوں نے تو پھر بھی کچھ عقلمندی د کھائی تھی۔کیونکہ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ اوِاٴتنابعذاب اَلیم( الانفال : ۳۳) یعنی اگر منہ مانگاعذاب نازل نہیں ہوسکتاتو کوئی اور عذاب ہی ہم پر نازل ہو۔اور اگر یہ لوگ یہ کہیں کہ نبی تو دعا میں عذاب کی تعین کر سکتا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ حضرت نوح کی دعا کو دیکھو کہ وہ کیا دعا کرتے ہیں۔کیا انہوں نے کسی عذاب کی تعین کی ہے؟ نہیں ان کی دعا ایک بالکل ساده دعا ہے کہ رب لا تذر على الأرض من الكفرين دیّارا (نوح:۲۷)