انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 107

نجس دل پر نازل ہو سکتا ہے جس میں اس قدر خشیت خدا بھی نہیں کہ احکام شرعیہ پر عمل کرے ؟پس خود اپنے مقولہ کے مطابق عبدالحکیم خاں جھوٹا اور مفتری ٹهہرتا ہے اور ہر ایک عقلمند جو اس سے نتیجہ نکال سکتا ہے وہ ظاہر ہے۔تیسری دلیل جو میں اس کے مفتری ہونے کے ثبوت میں پیش کرنا چاہتا ہوں اور جس کاذ کراس نے اپنے دعوی ٰکے ثبوت میں اعلان الحق میں بھی کیا ہے۔(بہ رسالہ اس نے حضرت صاحب کی وفات پر اپنی سچائی کے ثبوت کے لئے شائع کیا ہے) یہ ہے کہ اس شخص نے حضرت اقدس کی وفات کی نسبت پیشگوئی شائع کی کہ آپ تین سال کے اند ر فوت ہو جائیں گے۔اور یہ جھوٹے اور سچےکے فیصلے کے لئے ایک نشان ہو گا۔اس کی کی اصل حقیقت تو میں پہلے ہی لکھ آیا ہوں کہ پہلےحضرت اقدسؑ خودیہ پیشگوئی کر چکے تھے کہ میں جلد فوت ہو جاؤں گا۔اور الہام الٰہی سے ظاہر ہو تا تھاکہ تین سال کے اندر ہی آپ فوت ہو جائیں گے۔اور ایسے وقت میں اس کا یہ پیشگوئی کر نامحض ایک شرارت تھی۔مگر خیر خدا تعالیٰ نے اس کو جھوٹا ثابت کرنا تھا۔اس لئے تھوڑے دنوں کے بعداس کو القائے شیطانی ہوا کہ اب تین سال کی میعار چودہ ماہ رہ گئی ہے۔اور یہ بھی پہلے کی طرح چوری ہی تھی۔کیونکہ حضرت اقدسؑ نے دوبارہ شائع کیا تھا کہ اب میری موت قریب ہے۔اب یہاں تک تو شیطان نے اپنی بڑی فتح سمجھی کہ خدا کے کلام میں سے چرا کر اور الہام الٰہی میں سے اخذ کر کے میں نے اپنا گھر پورا کر لیا۔مگر خدا تو بڑا علام الغیوب ہے۔وہ جانتا تھا کہ یہ سب باتیں اس کی دھری ره جائیں گی اور وہی ہو گا جو میرا ارادہ ہے چنانچہ کچھ مدت کے بعد شیطان نے اس پر اپنا کلام نازل کیااور بتایا کہ مرزا ۲۱ - ساون مطابق ۴/ اگست کو فوت ہو جائے گا۔چنانچہ اس نے اس الہام کو اس خیال سے کہ اب میری بڑی فتح ہوگی مختلف اخباروں میں شائع کرا دیا مثلا روزانہ پیسہ اخبار، وطن اور اہل حدیث اور اس کے علاوہ بریلی گزٹ میں بھی اس کا یہ الہام شائع ہوا۔کہ مرزا۴/ اگست کوفوت ہو جائے گا۔اور اسی طرح بہت سے خطوط میں اس نے اس الہام کا ذکر کیا جو اب تک موجو دہیں۔مگر اس کے بر خلاف نفرت مسیح موعو دؑ کوخداوند تعالیٰٰ نے الہام کیا کہ \" خداسچے اور جھوٹےمیں فرق کر دکھائے گا‘‘۔اور ساتھ ہی بتا دیا کہ میری وفات ۱۵ / اکتوبر کے ۲۲۳ دن بعد ہوگی اوربیعت کے اکیسویں سال ہوگی جیسا کہ میں اپنے مضمون کے پہلے حصہ میں ثابت کر آیا ہوں۔پس اب عقلمند لوگ مقابلہ کر کے دیکھیں کہ کون سچا رہا اور کون جھو ٹا۔حضرت مسیح موعودؑ کو بھی آپ کی وفات کی تاریخ اور مہینہ بتایا گیا تھا۔اور دونوں کے الہامات مختلف اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔اب غور کرنے والے غور کریں کہ کون سچا رہا۔حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی وفات کی خبر۲۶/ مئی۔