انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 103

دہریہ ہو جائے گا۔پس چاہیئے کہ عبد الحکیم خاں اس خیال سے توبہ کرے۔کیونکہ ہماراخدا بڑا غیورخدا ہے۔وہ اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی پاک ذات پر ایسا گندہ اعتراض کیا جائے اوروہ جو ایسا خیال رکھتا ہے ضرور ہے کہ ہلاک کیا جائے اور تباہ کیا جائے اور اس کی موت ایسی ذلت سے ہو کہ آئندہ آنے والی نسلیں اس سے عبرت پکڑیں۔پس اگر اس دلیل پر غور کیا جائے تو ایک عقلمند انسان اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کسی کے حصے میں جھوٹ کی نجاست آئی ہے، اور وہ کون ہے جس سے خدا کلام کرتا اور کس کے لئے شیطان نے اپنا دام تزو یرپھیلایا ہواہے۔اب میں اس بات کے ثابت کرنے کے لئے چند دلائل لکھتا ہوں کہ میاں عبدالحکیم خاں بالکل حق سے دور ہیں۔اور ان کا ہاتھ سچائی کے دامن کو چھو بھی نہیں گیا۔اور وہ ایک اندھے کی طرح ہیں جو طوفان بادو بار ان کے وقت سجاکھوں کو اپنی طرف بلائیں اور کہیں کہ آؤ میں تمہاری راہنمائی کروں۔اور اس پیاسے کی طرح ہیں جس کی شدت پیاس کی وجہ سے جان لبوں پر آرہی ہو اور وہ ایک ایسے شخص کو جو کہ ایک سرد اور شیریں چشمہ کے کنارے پر بیٹھا ہوا اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پیاس بجھا رہا ہو بلائے اور وعدہ دے کہ آو میں تمہیں پیاس سے نجات دلاؤں۔خواہ وہ افتراءسےکام لیتے ہیں یا ان کو شیطانی الہام ہوتے ہیں بہرحال و ه با و جو و ضلالت میں گرے ہوئے ہونے کےاحمد ی جماعت کو ہدایت دینے کے لئے بلاتے ہیں۔اول دلیل جو ان کے مفتری ہو نے کی ہے وہ تومیں اوپر لکھ آیا ہوں۔مگر ناظرین کی آسانی کے لئے پھر دوبارہ لکھتا ہوں۔دلیل اول تو میاں عبدالحکیم خان کے جھوٹے ہونے کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑنے صاف طور سے اپنی وفات کی نسبت آج سے تین سال پہلے ہی پیشگوئی کی ہوئی تھی اور نہ صرف معمولی طور سے اس کا اعلان کیا تھا بلکہ کئی ہزار کی تعداد میں اشتہار الوصیت جس میں مفصل طور سے اس بات کو لکھا تھا کہ اب میں فوت ہونے والا ہوں شائع کیا تھا کہ میری وفات کی نسبت اس زور سے اوراس تواتر سے وحی الہی نازل ہو رہی ہے کہ میری زندگی میرے لئے سرد ہوگئی ہے۔اور جماعت کونصیحت کی تھی کہ میرے بعد ان اصولوں پر کار بند ہونا اور ان باتوں پر عمل کرنا کہ وہ کام جو خدا نےکرنا چاہا ہے تمہارے ہی ہاتھوں سے پورا ہو اور یہ بھی لکھا تھا کہ میری وفات اس طرح ہوگئی کہ لوگ سمجھیں گے کہ ناکامی ہوئی مگر اصل میں وہ کامیابی ہوگی۔کیونکہ خدا کی سنت ہمیشہ سے یہی چلی آئی ہے کہ نبی روحانیت کا بیج بو کر چلا جا تا ہے اور اس کے بعد وہ پھلتا پھولتا ہے۔اور جب تک وہ نبی