انوارالعلوم (جلد 1) — Page 87
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم دیباچہ ناظرین کو اس بات سے ناواقفیت نہیں ہے کہ ۲۶مئی ۱۹۰۸ء کو بوقت ساڑھے دس کےحضرت اقدس مسیح الزماں مہدی داران ؑنے اس دار فانی سے دار آخرت کی طرف کوچ کیا اور خدا کا وہ کلام جو اس کے مسیح پر نازل ہوا تھا پورا ہوا کہ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی۔۲۵ مئی۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس تندرست تھے۔اور سوائے پرانی بیماری دستوں کے جو کہ قریبا ایک مہینےسے پھر لاحق ہو رہی تھی اور سب طرح خیریت تھی اگرچہ اس بیماری کی وجہ سے نقاہت ہو رہی تھی مگر چونکہ مدتوں کی تھی اس لئے چنداں خیال نہ تھا۔اور اسی حالت میں حضرت نے لاہور میں کئی تقریریں کیں اور ایک کتاب پیام صلح لکھی جو ۳۱ مئی کو ایک بڑے جلسہ میں سنائی جانے والی تھی مگر خدا کی باتوں کو کون جانتا ہے۔شام کے وقت آپ سیر کو گئے اور وہاں سے واپس آکر فرمایا کہ آج مجھ کو بہت دست آرہے ہیں اور نقاہت زیادہ ہے۔قریباًدس بجے کھانا کھانے کے لئے بیٹھے اور راقم عاجز بھی آپ کے ساتھ تھا۔ایک دو لقمہ کھا کر فرمایا کہ پھر دست آیا ہے۔اور کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔رفع حاجت کے بعد آکر پلنگ پر لیٹ گئے اور طبیعت بہت کمزور تھی مگر ابھی زیادہ تکلیف نہ تھی تقریبا دو اڑھائی بجے مجھے جگوایا جب میں اٹھا تو معلوم ہوا کہ حضرت اقدسؑ بہت بیمارہیں اور ایک دو دست اور بھی آ چکے ہیں ڈاکٹر موجود تھے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ خليفة اللہ بھی دعاو ودوا میں مشغول تھے۔کوئی تین ساڑھے تین بچے نبض بالکل ساکت ہوگئی اوردل کی حرکت بند ہو گئی مگر ایک منٹ کے بعد ہی پھر آپ کی حالت رو بصحت ہو گئی۔اور آپ نےآنکھیں کھول دیں صبح ساڑھے چھ بجے تک ہوش رہا مگر پھر آپ سو گئے اور اسی حالت میں قریبا ساڑھے دس کے آپ کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔