انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 61

انوار العلوم جلد 1 41 محبت الهی عملی عقیدہ کو لیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہر با ایمان آریہ کا فرض ہے کہ وہ مردہ کو جلاتے وقت صندل عود اور کستوری وغیرہ کو کام میں لائے اور یہی نہیں بلکہ ڈیڑھ من روغن زرد بھی جلا کر خاکستر کرے مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ عقیدہ ایسا ہے کہ جس پر عمل ہو سکے یا صرف ستیارتھ پرکاش کے صفحوں کو سیاہ کرنے کے لئے گھڑا گیا ہے ۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ کتنے آریہ اس پر عمل کر سکتے ہیں یا کرتے ہیں اور غریب آدمی اس پر کس طرح عمل کر سکتا ہے یا آر یہ مت کے لحاظ سے غریب آریہ نہیں ہوتا اگر چہ پنڈت دیا نند نے اس کے لئے جو کہ اتنی چیزوں کو مہیا نہ کر سکے قاعدہ تو مقرر کر دیا ہے اور ایک تجویز اس کو ایسی بتائی ہے ج ہے جس سے وہ کا ، وہ کامیاب ہو جائے مگر وہ اصل حکم سے بھی زیادہ مشکل ہے وہ یہ کہ ایسا شخص بھیک مانگے یا گورنمنٹ سے مدد چاہے مگر جب تک کہ وہ غریب جس کے ہاں موت ہو گئی ہے قریبا ڈیڑھ سو روپیہ مختلف شهر و دیار میں پھر کر اور پیسہ پیسہ اور کوڑی کوڑی جمع کر کے لائے گالاش سڑے گی اور خاص کر طاعون کے دنوں میں کہ دہائی ہوا کی وجہ سے دوسری لاشیں بھی جلدی جلدی سڑ جاتی ہیں اور طاعون کے بیمار کی لاش تو چو میں گھنٹہ کے اندر خراب ہو جاتی ہے پھر ایک لمبے عرصہ کی کوشش اور محنت کے بعد جو ایک شخص روپیہ جمع کر کے لایا بھی تو وہ کس کام آئے گالاش تو پہلے ہی خاک ہو جائے گی اور دوسری تجویز جو کہ گورنمنٹ سے مانگنے کی لکھی ہے وہ بھی عجیب ہے کیونکہ اول تو ایک عرضی گورنمنٹ کی خدمت میں دیجاوے کہ مجھے فلاں فلاں چیزیں چاہئیں اور پھر وہاں سے منظوری ہو اور پھر روپیہ ملے اس صورت میں بھی لاش سڑ جائے گی اور تعفن اور سڑاندھ کی وجہ سے دوچار اور کو بھی ساتھ لے جائے گی جن کے لئے پھر بھیگ مانگنی یا گورنمنٹ کے پاس امداد کیلئے درخواست کرنی پڑے گی اور دوسرے یہ کہ اگر گورنمنٹ ہر ایک لاش کے لئے دو دو سو روپیہ دینے لگی تو کام چل چکا جبکہ یہیں آریہ صاحبان چیختے اور چلاتے ہیں کہ ٹیکسوں سے رعایا پس گئی ہے تو اس صورت میں نہیں معلوم اور کتنے ٹیکس لگانے پڑیں گے بلکہ پھر بھی خزانہ کو نقصان ہی ہو گا اور اگر ایسا گور نمنٹ منظور بھی کرے اور اس سے نقصان بھی نہ ہو تو کل کو سکھ اٹھیں گے کہ ہمارے مردے کے جلانے کے لئے پانچ سو روپیہ کی حاجت ہے اور پھر سناتن دھرم کہیں گے کہ ہمارے ہمارے مرد۔ مردے کے جلانے کے کے لئے ہزار روپیہ کی حاجت ہے اور اس طرح گویا کہ گورنمنٹ کا کام مردہ جلانا ہی رہ جائے گا جو کہ اس کی شان سے بعید ہے اور پھر جنگوں کے موقعہ پر یہ قانون کس طرح چل سکے گا کیونکہ وہاں تو ایک گھنٹہ میں ہزاروں خون ہو جاتے ہیں اگر وہاں کستوری گھی عود اور صندل جلائیں گے تو لڑائی کے دوسرے اخراجات