انوارالعلوم (جلد 1) — Page 58
انوار العلوم جلد 1 ۵۸ محبت الهی اور دیتے وقت رکھ چھوڑا تھا یعنی اس گناہ کی سزا ابھی اس کو نہیں دی تھی اس کو متناسخ کے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے اس موقع پر طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایسا کیا جاتا ہے جبکہ اس کا صرف ایک گناہ رہ گیا تھا اور وہ نجات کے کنارے پر کھڑا تھا اور قریب تھا کہ اس دریا میں ہمیشہ کیلئے غوطہ مارے دائمی تکالیف سے بچ جائے کہ پر میشور نے اس کو ایک غوطہ دیا اور باہر کھڑا کر دیا کہ جا پھر تکالیف کے سمندر میں تیر ۔ کیا یہ ظلم نہیں؟ کیا یہ صریح زیادتی نہیں اور پھر ایک ایسی چیز پر جس کا قدامت اور ابدیت میں ایسا ہی دعوی ہے جیسا کہ پر میشور کا۔ پھر جو اس کی مخلوق نہیں اور پھر وہ جو کہ پر میشور کی کوئی ضرورت نہیں رکھتی اگر پر میشور نہ بھی ہو تو وہ خود بخود جڑ سکتی ہے اور مختلف شکلوں میں تبدیل ہو سکتی ہے اور پھر یہی نہیں کہ اس طرح مادہ اور روح کو نجات حاصل کرنے سے روکا گیا ہے بلکہ نجات کے دوسرے قواعد بھی ایسے سخت اور کڑے مقرر کئے گئے ہیں کہ نجات نا ممکن ہے۔ کیونکہ ہر ایک جیو ہتیا پر جون کا چکر لگانا پڑتا ہے اور پانی جو کہ انسانی ضروریات سے مقرر کیا گیا ہے اس کے ہر قطرے میں ہزاروں کیڑے ہوتے ہیں اور ہوا میں کیڑے ہوتے ہیں اور پھر یہ ہی نہیں بلکہ پنڈت دیانند کے مقرر کردہ قواعد کے رو سے ہر ایک چیز میں روح ہوتی ہے یہاں تک کہ پودوں اور درختوں میں بھی ہوتی ہے تو اس صورت میں جو چیز انسان کھائے گا وہ جاندار ہوگی اور اس کا کھانا جیو ہتیا ہو گا اور جو شخص ایک بھی سانس لے بوجہ ان جرموں کی ہتیا کے جو کہ ہوا میں ہوتے ہیں سینکڑوں جو نہیں بھگتے گا۔ پس نجات ناممکن ہے اور خود پنڈت دیانند کو معلوم نہیں اتنے کیڑوں اور جانداروں کو ہلاک کرنے کی وجہ سے جو کہ وہ اپنی زندگی میں کرتے رہے کن کن جونوں میں جنم لینا پڑے گا۔ چونکہ ہندوؤں کے بیان میں کافی طور سے ناسخ کا رد ہو چکا ہے اس لئے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں اور اب ہم عملی حصے کو دیکھتے ہیں کہ کیا وہ ایسا حصہ ہے جو کہ انسانی فطرت کے مطابق ہے یا نہیں۔ سو پہلے تو ان کے طرز معاشرت پر نظر ڈالنے سے ہم کو نیوگ کا ایسا خوفناک مسئلہ نظر آتا ہے جس پر عمل کرنا ایک شریف آدمی کا کام نہیں۔ یہاں تک کہ خود آریہ صاحبان بھی اس سے کچھ پر ہیز ہی کرتے ہیں ہاں بعض بعض حد سے بڑھے ہوئے اس کو بھی ایک خوبی ہی سمجھتے ہیں مگر یہ شازد نادر ہی ہیں اور شاز کا عام میں دخل نہیں اس لئے ہم یہی کہیں گے کہ عام آریہ اس مسئلہ کے بر خلاف ہیں۔ پھر جبکہ وہ خود اس پر عمل نہیں کرتے تو دوسرے مذاہب والے تو خواہ مخواہ اس سے نفرت ہی کریں گے ۔ شاید بعض ناظرین اس مسئلہ کی حقیقت سے ناواقف ہوں اس لئے ہم ان کے علم کے لئے اس کی تشریح کر دیتے ہیں نیوگ آریہ سماج کا ایک مسئلہ ہے جس کی رو سے وہ مرد جس