انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 56

انوار العلوم جلدا ۵۶ محبت الهی ہے کیونکہ اگر یہ سچ ہو تا تو کم سے کم آریوں کے ہاں لڑکوں کی وہ کثرت ہوتی کہ دنیا دنگ رہ جاتی مگر ہم ایسا نہیں دیکھتے ہیں بلکہ خود پنڈت لیکھرام کے ہاں جو کہ ان کا ایک گرو گھنٹال گذرا ہے کوئی اولاد نہیں ہوئی اور اس وقت ان کے کئی بڑے بڑے لیڈروں کے ہاں نرینہ اولاد نہیں غرض کہ یہ عقیدہ عملی طور سے بالکل غلط ثابت ہوا ہے اور پھر ایک اور بات اس کو غلط ثابت کرتی ہے اور اس کے بیان کرنے سے پہلے ہم کو افسوس سے یہ کہنا پڑے گا کہ دروغ گو را حافظه نباشد اور وہ یہ ہے کہ جب پنڈت دیا نند نے جو کہ ان کے مذہب کا بانی ہے تاریخیں مقرر کر دی ہیں کہ فلاں میں لڑکے اور فلاں میں لڑکیاں پیدا ہوں گی تو پھر اس بات کے کہنے کی کیا ضرورت پیش آئی کہ نیوگ میں گیارہ لڑکے ہی شمار ہوں گے اور لڑکیاں اس شمار میں نہیں ہوں گی جبکہ لڑکے پیدا کرنا اپنے اختیار میں ہے تو پھر لڑکیوں کا کیا ذکر ۔ وہ مرد جس کے اولاد نہیں ہوتی وہ خود دیکھ لے گا کہ فلاں رات لڑکا پیدا کرنے کی ہے وہ اسی دن نیوگی خاوند کو بلائے گا اصلی بات وہی ہے جو کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ پنڈت دیانند کو وہ قاعدہ بھول گیا جو کہ وہ لڑکے اور لڑکیاں پیدا کرنے کی نسبت باندھ آئے تھے اور نیوگ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں فکر ہوئی کہ اگر لڑکیاں ہی پیدا ہوں تو پھر کیا ہو گا خاوند کی سب محنت رائیگاں ہوئی اور بیوی بھی ہاتھ سے جائے گی اس لئے انہوں نے قاعدہ بنایا کہ شرط یہ ہے کہ نیوگی اولاد نرینہ ہو مگر اس طرح خود انہوں نے اس قاعدہ کو توڑ دیا جو کہ اولاد حاصل کرنے کے لئے باندھا تھا مگر اس وقت ہمار ا مدعا اور تھا یہ قاعدہ بذات خود تو غلط ثابت ہو ہی گیا ہے اس لئے ہم اصل بات کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ کہ آریوں کا عقیدہ ایسا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں پیدا کرنا اپنا اختیار ہے پس جبکہ ایسا ہے تو تناسخ غلط ٹھہرتا ہے کیونکہ ایک انسان جس نے پچھلے جنم میں ایسے کام کئے تھے کہ جن کی وجہ سے اس کے لڑکے نہیں ہوئے تھے وہ اس قاعدہ پر چل کر نرینہ اولاد حاصل کر سکتا ہے پس اس سے ناسخ باطل ہو جاتا ہے تناسخ تو تب صحیح تھا کہ انسان لڑکے لڑکیاں خود نہ پیدا کر سکے اور جیسے عمل کئے ہیں ویسی سزا یا بدلہ پائے مگر اس صورت میں بدلہ نہیں رہتا بلکہ انسان کا اپنا اختیار ہو جاتا ہے اور اس طرح تناسخ رد ہو جاتا ہے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک غریب آدمی کے لڑکے ہونے تھے اور ایک امیر کے لڑکیاں اور یہ اس لئے کہ انہوں نے پچھلے جنم اس کے مطابق کام کئے تھے مگر امیر تو دیا نند کے قواعد کے مطابق لڑکے حاصل کرتا ہے اور غریب کے لڑکیاں پیدا ہوتی حالانکہ وہ لڑکے تو بوجہ اس غریب کے پچھلے جنم کے کاموں کے اس کے ہاں پیدا ہونے تھے اور خود وہ لڑکے جو کہ امیر کے ہاں جا کر پیدا ہو گئے ان کے اعمال تو ایسے تھے کہ وہ اس غریب کے ہاں پیدا ہیں حالا