انوارالعلوم (جلد 1) — Page 54
انوار العلوم جلد 1 ۵۴ محبت الهی صورت میں ہے جبکہ انسان اس کی مخلوق ہے اور جبکہ وہ خدا کے بے پایاں رحم اپنے پر دیکھتا ہے مگر جبکہ رحم تو خدا نہیں کر سکتا کیونکہ جونوں کے چکر سے انسان کو وہ چھوڑ ہی نہیں سکتا۔ اور خالقیت کا بھی کوئی تعلق نہیں تو پھر انسان اس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے اور جبکہ خدا سے محبت کرنے کا کوئی مادہ موجود نہیں تو یہ محبت کہاں سے آگئی اور انسانی دل میں محبت کرنے کا پر میشور کو خیال کیونکر آیا جبکہ وہ جانتا تھا کہ انسان کی محبت مجھ سے ہونا نا ممکن ہے اور پھر یہ کہ انسان کے پیدا کرنے کی غرض کیا تھی ؟ اس کی صفات تو اس بات کی مقتضی ہے ہی نہیں کیونکہ نہ وہ رحمان ہے کہ اس کی صفت رحمانی چاہتی تھی کہ کوئی مخلوق ہو اور میں اس پر اس کے کسی کام کے لئے احسان کروں اور نہ وہ رحیم ہے۔ کیونکہ جب وہ جونوں کے چکر میں انسان کو سرگردان کرتا ہے اور اتفاقا انسان کبھی گناہوں سے پاک ہو کر (اگر چہ یہ نا ممکن ہے جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں) پر کاش کی سیر کا مستحق ہوتا ہے یا دوسرے الفاظ میں نجات کے قابل ہو جاتا ہے تو پر میشور آریوں کے خیال کے مطابق ایک گناہ اس کا رکھ چھوڑتا ہے تاکہ یہ میرے پھندے میں سے نکل نہ جائے اور اس بات کا ہونا ایک رحیم انسان سے بھی بعید ہے۔ چہ جائیکہ رحیم خدا ایسا کرے پس معلوم ہوا کہ خدار حیم بھی نہیں اور دوسرے یہ بھی نہیں کہ اس کی صفت خالقی اس کو انسان کے پیدا کرنے پر مجبور کرے اس موقعہ پر مخالف یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی جوڑنے جاڑنے والی طاقت اس کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ایسی مخلوق پیدا کرے اول تو وہ خود ہی شرمندہ ہو گا بشرطیکہ کچھ بھی حیا رکھتا ہو کیونکہ خدا تعالیٰ سے یہ بہت ہی بعید ہے کہ صرف جوڑنے جاڑنے کی طاقت رکھتا ہو اور اس کے علاوہ بالکل ناطاقت اور بے اختیار ہو اور دوسرے یہ بات نہ صرف سائنس دان یا علم طبعی کے جاننے والے ہی مانتے ہیں کہ ہر ایک چیز میں ایک کشش اتصال ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے حصے یا دوسری چیز کو کھینچتی ہے۔ بلکہ خود آر آریہ صاحبان بھی اس کے قائل ہیں اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔ پس اس طرح اس جوڑنے کی طاقت کا بھی ابطال ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب مادہ میں خود ہی جڑنے کا مادہ تھا تو خدا کو یا پر میشور کو بیچ میں دخل دینے کی کیا حاجت ہوئی ۔ مادہ نے تو خود بخود جڑنا ہی تھا اور مختلف صورتیں اختیار کرنی ہی تھیں پھر پر میشور کا کیا تعلق اور پھر مادہ ازل سے موجود تھا اور خدا نے اس کو نہیں بنایا تھا تو اس میں ایک طاقت اقت تھی جس کی ی وجہ وجہ سے وہ اپنے آپ پر قائم تھا اور خدا اتعالیٰ تعالیٰ کے کے اس اس پر قبضہ کرنے کے وقت ایک جنگ کی ضرورت تھی۔ کیونکہ جبکہ ایک طاقت را والی چیز دوسری پر قبضہ کرنا چاہتی ہے تو بغیر مزاحمت یا جھگڑے کے نہیں کر سکتی جیسا کہ ایک قومی آدمی پر جب بیماری کا حملہ ہوتا