انوارالعلوم (جلد 1) — Page 47
انوار العلوم جلد 1 ۴۷ محبت الهی آدمی ان میں پیدا ہوا اس کی انہوں نے پوجا شروع کر دی یہاں تک کہ انہوں نے مسلمان فقیروں کو بھی او تا رمان لیا ہے اور آج ہندوستان میں کئی سو سے زیادہ ایسی مسلمانوں کی قبریں ہوں گی جن کو ہند و پوجتے ہیں۔ اور دیکھا جاتا ہے کہ درخت جب پرانا ہو جاتا ہے تو اس کی بھی یہ پرستش کرنے لگ جاتے ہیں۔ خوبصورت پتھروں کی پوجا شروع کر دیتے ہیں اور ضعیف الاعتقادی میں یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ عورت اور مرد کی شرم گاہوں تک کی پوجا کرتے ہیں۔ پس کیا یہ بات اس بات کے ثبوت کے لئے کافی نہیں کہ ہر ایک عجیب اور شاندار چیز کی یہ پرستش کرنے لگ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید اس میں خدا مل جائے اور جس کو اس بات پر بھروسہ نہ ہو کہ خدا کس طریقہ سے ملتا ہے تو وہ اوروں کی ہدایت کا بیڑا کس طرح اٹھا سکتا ہے اور وہ کس طرح کہہ سکتا کہ خدا اس طریقہ سے ملتا ہے اور اس طریقہ سے نہیں۔ قرآن شریف نے بت پرستی کے ابطال میں ایک بہت عمدہ دلیل بیان کی ہے وہ اس طرح ہے کہ حضرت سلیمان نے جو کہ بنی اسرائیل کے ایک بڑے بادشاہ گزرے ہیں اور اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی ہونے کا درجہ بھی رکھتے ہیں ایک عورت کو جو کہ سبا کی شہزادی تھی اپنے پایہ تخت میں بلایا اور وہ شہزادی سورج پرست تھی ( یہ پوجا ہندوؤں میں نہایت کثرت سے جاری ہے) اور انہوں نے اس کو غلطی پر ثابت کرنے کے لئے ایک مکان بنایا اور اس میں ایسے شیشہ کا فرش کیا جو کہ نہایت صاف تھا اور اس کے نیچے سے نہر گذاری جس سے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہاں نہریں جاری ہیں اور بیچ میں کوئی روک حائل نہیں اور جب وہ شہزادی وہاں سے گزرنے لگی تو اس نے نہر سمجھ کر اپنے پائنچے اٹھائے مگر حضرت سلیمان نے فرمایا کہ یہ شیشہ کا فرش ہے نہر نہیں جس پر اس نے اپنی غلطی کا اقرار کیا کہ میں جو سورج کی پرستش کرتی تھی اس میں میری غلطی ہی تھی۔ سورج کے لئے روشنی مہیا کرنے والی ایک اور ذات ہے جس نے خود سورج کو پیدا کیا اور اس میں روشنی پھیلانے کے خواص بھی رکھے ۔ پس اسی طرح ہنوں میں یہ جس قدر بت پرستی پھیلی ہوئی ہے صرف کم توجہی کی وجہ سے ہے اگر اس معاملہ میں یہ تدبیر کرتے اور پر میشور سے دعا کرتے تو ممکن تھا کہ ان کو ہدایت ہوتی مگر انہوں نے اس معاملہ میں کچھ بھی توجہ نہ کی۔ حالانکہ اسی پر آئندہ زندگی کا مدار تھا اور موت کے بعد کے زمانہ کا اس کے مطابق آغاز تھا۔ یعنی بھلے کاموں کی جزاء بھلی اور برے کاموں کی جزاء بری ملنی تھی۔ اب ہم تناسخ کا مسئلہ لیتے ہیں کہ جس پر ہندوؤں کو بڑا فخر ہے اور جس پر کہ مدت سے ہندوؤں اور دوسرے مذاہب میں مباحثات کا سلسلہ جاری ہے۔ تناسخ یہ ہے کہ جس طرح انسان کام