انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 45

انوار العلوم جلد | لده محبت الهی نہیں کرتا کہ الہام و وحی کا سلسلہ بھی بند کیا جائے بیشک شریعت ختم سمجھی جائے گی لیکن خدا تعالیٰ سے کلام کرنے کی خواہش جو کہ محبت کا لازمی نتیجہ ہے کبھی بھی رک نہیں سکتی کیونکہ محبت یعنی محبت کرنے والا اس بات کو چاہتا ہے کہ جس سے میں محبت کرتا ہوں کسی طرح اس کا حال بھی مجھ کو معلوم ہو کہ وہ مجھ کو چاہتا ہے یا نہیں اور اس بات کے دریافت کرنے کے لئے ہر طرح کی وہ کوشش کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے مگر اہل ہنود کے مذہب میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی گئی ہے جس سے کہ محبت محبوب کی محبت کو دریافت کر سکے اور اس طرح گویا کہ کل عاشقوں کا خون کیا گیا ہے جو کہ اپنی جانیں اس بات کے لئے قربان کر دیتے ہیں کہ کسی طرح محبوب ہم پر ایک نظر ڈالے اور جبکہ ان کو تسلی ہی نہ ہوگی کہ پر میشور ہماری محبت کو جانتا ہے یا نہیں تو ان کے دل کس طرح قرار پائیں گے اور وہ کوشش جو کہ خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں کس طرح جاری رہ سکے گی جبکہ ان کو معلوم بھی نہ ہو گا کہ ہماری کوشش کہاں تک بار آور ہوئی یا کس حد تک اس کے کامیاب ہونے کی امید ہے اور اس صورت میں تھوڑی مدت کے بعد عاشقوں کے دل کھٹے ہو جائیں گے اور طرح طرح کے خیالات اور وساوس میں پڑ جائیں گے یہاں تک کہ خود اس ہستی سے ہی انکار کر بیٹھیں گے ۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوؤں میں کثرت سے خدا کا انکار پایا جاتا ہے جیسا کہ آریہ جینی ناستک است و غیرہ وغیرہ۔ یہاں آریہ کا لفظ پڑھ کرنا ظرین تعجب کریں گے کہ ان کا نام دہریوں یا خدا کی ہستی کا انکار کرنے والوں کی فہرست میں کیوں لایا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ خدا کا انکار نہیں کرتے بلکہ اقرار کرتے ہیں مگر میں آگے چل کر انشاء اللہ آریوں کے بیان میں ثابت کروں گا که آریه در حقیقت خدا ا کا ہی انکار انکار کرتے ہیں اور دہریت کے پھیل جانے ۔ نے کے علاوہ جو لوگ خدا خدا پر ایمان بھی لاویں وہ بھی اس یقین اور معرفت کے ساتھ خدا کو کب مان سکتے ہیں جیسا کہ وہ جن کے سامنے ہر وقت ایسے لوگ موجود ہیں جن سے کہ خدا ہم کلام ہوتا ہے کیونکہ شنیدہ کے بود مانند دیده ان کو کیا معلوم کہ کسی زمانہ میں کچھ رشی گزرے تھے اور ان سے کچھ کلام بھی کیا گیا ہے لیکن اب وہ سلسلہ قطعاً بند کیا گیا ہے اور جو کہ اس بات پر کچھ بھی غور کریں گے ان کے دل میں فورا یہ ہے! شک گزرے گا کہ کہیں یہ رشیوں کا ہونا اور ان سے خدا کا کلام کرنا ان قصوں میں سے تو نہیں جو کہ بچوں کے کے بہلانے کے کے لئے لئے بنائے بنائے گئے گئے ہیں ہیں کیونکہ اگر اگر یہ یہی سچ ہو ہو تا تاکہ کہ خدا خدا کسی سے سے کلام کلام بھی بھی کرتا کرتاہے ہے تو آج کل بھی کسی سے کرتا یا کم سے کم کسی تاریخی زمانہ میں اس کی شہادت پائی جاتی ۔ مگر ایسا نہیں اس یا