انوارالعلوم (جلد 1) — Page 648
انوار العلوم جلدا ۶۴۸ اسلامی نماز الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيْمَانِ وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات: (۱۳) ترجمہ ۔ اے مومنو! ایک قوم دوسری قوم کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اور اس بے ہنسی نہ کرے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ایسا کریں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ دوسری عورتیں ان سے بہتر ہوں (یعنی نیکی کے لحاظ سے) اور نہ آپس میں ایک دوسرے کی عیب چینی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو سخت الفاظ سے پکارا کرو۔ (یعنی گالیاں مت دیا کرو) کیونکہ یہ خدا سے عہد شکنی ہو گی اور یہ برا نام ہے کہ ایمان کے بعد فاسق کہلائے۔ اور جو اس کام سے باز نہ آئے گا وہ ظالم ہو گا۔ (۳) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُو عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا - الـ ۱ - ( النساء : ٢٠) ترجمہ ۔ اے مومنو! تمہیں ہرگز جائز نہیں کہ تم اپنی بیویوں کا مال جبرا لے لو ۔ اور نہ تم کو جائز ہے کہ جو کچھ تم ان کو دے چکے ہو اس کا کوئی حصہ واپس لینے کے لئے تم ان سے الگ ہو جاؤ ( تاکہ تمہارے غصہ سے ڈر کر وہ مال تمہارے سپرد کر دیں) ہاں اس وقت بے شک ان سے الگ ہو سکتے ہو ۔ جب وہ کھلے کھلے گناہ کا ارتکاب کریں اور ان سے ہمیشہ نیک سلوک کیا کرو۔ اور اگر ان کی کوئی بات تم کو نا پسند ہو تو اس کی وجہ سے ان سے بد سلوکی نہ کرد) یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ تم کو کوئی بات ناپسند ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں بڑی بڑی بھلائیاں پیدا کر دے ۔ (یعنی اگر تم عورتوں کی ناپسند حرکات دیکھ کر بھی ان سے نیک سلوک کرو گے تو خدا تمہارے لئے سکھ کا سامان کر دینے کا خود ذمہ لیتا ہے۔ (۵) إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَاكَ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ۔ (النحل : ۹۱ - ۹۲) ترجمہ - اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم عدل سے کام لو اور لوگوں سے احسان کرو اور ایسا احسان کرو کہ تم کو کسی نفع کا خیال نہ ہو اور منع کرتا ہے اس بات سے کہ تم وہ بدیاں کرو جو تمہاری جان کے متعلق ہوں یا وہ بدیاں جن کا اثر لوگوں پر پڑتا ہو اور بادشاہ کے خلاف بغاوت کرنے سے اور تم کو