انوارالعلوم (جلد 1) — Page 631
انوار العلوم جلدا ۶۳۱ سيرة النبي ال اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتیں لیکن اصل منشا گالی سے کمال طیش کا اظہار ہوتا ہے گویا گالی دینا بھی ایک قسم کا مجاز ہوتا ہے جس کے ذریعہ انتہاء غضب کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ نہایت غصیلے ہوتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر ان کا نفس جوش میں آجاتا ہے وہ گالیاں بھی زیادہ دیتے ہیں اور جو لوگ جس قدر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اسی قدر گالیوں سے بچتے ہیں کیونکہ ان کو اس قدر غصہ نہیں آتا کہ جس کو وہ عام الفاظ میں ادا نہ کر سکیں اور اگر آئے بھی تب بھی وہ اپنے نفس کو جھوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ گالیاں در حقیقت ایک کمزوری ہے اور سخت طیش کے وقت انسان سے اس کا ظہور ہوتا ہے اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ صرف گالی دینے والے کے لئے ان خیالات کا اس سے پتہ چلتا ہے جو وہ اس کے متعلق رکھتا ہے جسے گالی دیتا ہے۔ غرض گالی دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو تا ہاں ایک پر غضب طبیعت کے جوش کا اظہار اس سے ہو جاتا ہے مگر پھر بھی اکثر لوگ غضب میں گالیاں دیتے ہیں چنانچہ بعض لوگ جو عام طور پر نرم طبیعت رکھتے ہیں جب ان کو بھی غصہ آجائے تو اپنے مخالف کے حق میں گالی دے دیتے ہیں اور جب کسی شخص سے سخت تکلیف پہنچے تب تو بڑے بڑے صابروں کے منہ سے بھی گالی نکل جاتی ہے چنانچہ مسیح ناصری جیسا صابر انسان جس کی زندگی اس کے صبر اور اس کی استقامت پر دلالت کرتی ہے اور جس نے اپنے دشمنوں سے بڑی بڑی سخت مصیبتیں برداشت کر کے بھی ان کے حق میں کوئی سخت کلمہ نہیں کہا۔ اسے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک موقعہ پر جب اس کے دشمنوں کی شرارت حد کو پہنچ گئی اور حملہ پر حملہ انہوں نے اس پر کیا تو آخر تنگ آکر ایک دن اسے بھی اپنے دشمنوں کے حق میں کہنا پڑا کہ سانپوں کے بچے مجھ سے معجزہ طلب کرتے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح کے مخالف تھے وہ انسانوں کے بچے تھے لیکن ان کی شرارتوں نے حضرت مسیح کو اس قدر دق کیا کہ آخر تنگ آکر ان الفاظ میں انہیں اپنے غصہ کا اظہار کرنا پڑا ۔ اسی طرح ایک دفعہ اپنے حواریوں سے جو ایک دفعہ ان کو سخت تکلیف پہنچی تو اپنے ایک حواری کو انہوں نے شیطان کے لفظ سے یاد کیا حالانکہ وہ وہی حواری تھا جسے انہوں نے خود اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا تھا۔ غرض حضرت مسیح کی مثال سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ کبھی بڑے سے بڑا صابر انسان بھی دشمن کی شرارت سے تنگ آکر ایسی گالی دے بیٹھتا ہے۔ لیکن ہمارے آنحضرت لال کو اللہ تعالیٰ نے وہ شان عطا فرمائی تھی کہ آپ کی زبان پر کبھی گالی نہیں آئی حالانکہ جو مخالفت آپ کی ہوئی اور جو تکلیف آپ کے دشمنوں نے آپ کو دی وہ اس حد کی تھی کہ اس کے مقابلہ میں کسی انسان کی تکلیف نہیں پیش کی جاسکتی