انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 627

نے اس کےفرشتہ کو یہی جواب دیا کہ اس بادشاہ کی خدمت کے میں کہاں لا ئق تھا۔شاید کوئی شخص کہے کہ یہ تو جھوٹ تھا آپؐ تولا ئق تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض نا دانی کے با عث ہے جو لوگ جس قدر خدا تعالیٰ کے قریب ہو تے ہیں اسی قدر اس سے خائف ہوتے ہیں اور اس کے جلال سے ڈرتے ہیں۔بے شک رسول کریم ﷺ سب سے زیا دہ اس کام کے لا ئق تھے۔لیکن ان کا دل سب انسانوں سے زیا دہ خدا تعالیٰ کے خوف سے پُر تھا۔پس انہوں نے خدا تعالیٰ کے جلال کو دیکھتے ہوئے عذر کیا کہ میں تو اس کام کے لا ئق نہیں۔اگر آپؐ اپنے آپ کو سب سے لائق سمجھتے ہو ئے ایسا کہتے تب بے شک آپؐ پر الزام آسکتا تھا بعد کے واقعات نے ثا بت کر دیا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے جبروت اور جلال پر نظر کر تے ہو ئے واقعہ میں اپنے آپ کو اس کی امانت کے اٹھا نے کے قابل خیال نہ کر تے تھے اور یہ بات آپؐ کے درجہ کی بلندی پر دلالت کر تی ہے کہ آپؐ باوجود عظیم الشان طاقتوں کے مالک ہو نے کے خدا تعالیٰ کے جلال پر ایسے فدا تھےکہ آپؐ نے اپنے نفس کی خوبیوں کو کبھی دیکھا ہی نہیں اور اُسی کے جلال کے مطالعہ میں لگے رہے۔کیا اس سے بڑھ کر بھی انکسار کی کو ئی اَور مثال دنیا میں موجود ہے؟موسیٰؑ کی ایک مثال قرآن کریم سے معلوم ہو تی ہے لیکن آپؐ کے مقابلہ میں وہ بھی کچھ نہیں کیونکہ گو حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھا اور نبوت کے بو جھ اٹھا نے سے انکار کیا لیکن اپنے بھا ئی کی طرف اشارہ کیا۔پس انہوں نے اپنی دانست میں ایک آدمی کو اس قابل خیال کیا کہ وہ اس بوجھ کو اٹھا لے گا لیکن آنحضرتﷺ نے اپنی نسبت عجیب پیرا یہ میں عذر کیا اور کسی کو پیش نہیں کیا جو آپؐ کے عظیم قرب پر دلالت کر تا ہے اور ثا بت ہو تا ہے کہ آپ حضرت موسیٰ ؑسے شان میں افضل تھے کہ آپؐ نے اس امانت کے اٹھا نے کے لیے کسی انسان پر نظر نہیں کی بلکہ صرف اپنی کمزوری کا اقرار کرکے خدا تعالیٰ کے انتخاب پر صاد کیا۔غرض آپؐ کا نبوت کے ملنے سے بھی پہلے یہ انکسار کا نمونہ دکھا نا ثابت کر تا ہے کہ آپؐ کی طبیعت میں ہی انکسار داخل تھا۔اور نادان ہے وہ جو خیال کر ے کہ آپؐ نے نبوّت کے سا تھ اس رنگ کو اختیار کیا۔اس جگہ ایک اَور با ت بھی یا درکھنی چاہیے کہ انکسار جیسا کہ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے اس کا نام نہیں کہ کو ئی آدمی اپنے آپ کولا ئق سمجھتے ہو ئے کہے کہ میں تویہ کام نہیں کر سکتا۔یہ تو جھوٹ ہے اور جھوٹ کبھی اچھی صفت نہیں ہو سکتی،انکسار درحقیقت ایثار کی ایک قسم ہے جو ایک تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ انکسار نام پا تی ہے او ر منکسرالمزاج نہ اس شخص کو کہیں گے جو نالائق