انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 624

انوار العلوم جلدا ۶۲۴ سيرة النبي بھینچا کہ طاقت برداشت نہ رہی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ میں نے کہا کہ میں تو پڑھنا نہیں جانتا ینچا طاقت اس پر اس نے پھر مجھے پکڑا اور اپنے ساتھ چمٹا کر زور سے بھینچا حتی کہ طاقت برداشت نہ رہی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ کہ پڑھ پڑھ! ! یہ آیات لے کر (یعنی یاد کر کے رسول کریم ال واپس تشریف لے آئے اور آپ کاول دھڑک رہا تھا۔ وہاں سے آکر آپ سیدھے حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھاؤ! اس آپ کے اوپر کپڑا ڈال دیا گیا اور آپ لیٹے رہے یہاں تک کہ خوف جاتا رہا۔ پھر حضرت خد یہ کو تمام قصہ سنایا اور فرمایا کہ میں تو اپنی جان پر ڈرتا ہوں (یعنی مجھے خوف ہے کہ مجھ سے کیا معاملہ ہونے لگا ہے) اس پر حضرت خدیجہ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں۔ خدا تجھے کبھی ذلیل نہیں کرے گا کیونکہ تو رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور تمام وہ نیک اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں ان پر عامل ہے اور مہمان کی اچھی طرح سے خاطر کرتا ہے اور کچی مصیبتوں میں لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ لوگوں کی مدد کرتا ہے یہ کہہ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت ا کو ساتھ لیا اور ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزیٰ جو حضرت خدیجہ کے چا کے بیٹے یعنی چچا زاد بھائی تھے ، ان کے پاس پہنچیں جو جاہلیت کے زمانہ میں مسیحی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی میں انجیل کے بعض حصص ، جن کی اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دیتا لکھا کرتے تھے (یعنی اپنی جوانی میں) اور اس وقت وہ بوجہ بڑھاپے کے اندھے ہو چکے تھے ۔ حضرت خدیجہ نے ان سے کہا کہ اے میرے چا کے بیٹے ! اپنے بھائی کے بیٹے کی بات سن - ورقہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے ! کیا بات ہے۔ آ۔ بات ہے۔ آپ نے جو کچھ گزرا تھا آپ کے سامنے دہرایا۔ اس پر ورقہ نے کہا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا۔ اے کاش میں اس وقت جوان ہوتا۔ اے کاش میں اس وقت زندہ ہو تا جب تیری قوم تجھے نکال دے گی اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! کوئی شخص اس تعلیم کے ساتھ نہیں آیا جس کے ساتھ تو آیا ہے مگر لوگوں نے اس سے دشمنی کی ہے اور اگر مجھے تیرا زمانہ ملا یعنی جس وقت تیری تعلیم کا اعلان ہو گا اور لوگ مخالفت کریں گے ورنہ نبی تو آپ اسی دن سے ہو گئے تھے اور وحی قرآن نازل ہونی شروع ہو گئی تھی تو میں تیری بڑی مدد کروں گا۔ پھر کچھ ہی دنوں کے بعد ورقہ فوت ہو گئے اور وحی ایک عرصہ کے لئے بند ہو گئی۔ ممکن ہے اس حدیث کے یہاں نقل کرنے پر بعض لوگوں کو تعجب ہوا ہو کہ اس حدیث کے