انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 617

انوار العلوم جلدا 414 سيرة النبي بھیج جن کے نہ تو کوئی رشتہ دار تھے جن کے پاس رہتے نہ ان کے پاس مال تھا کہ اس پر گزارہ کرتے اور نہ کسی شخص کے ذمہ ان کا خرچ تھا۔ جب نبی کریم اس کے پاس صدقہ آتا تو آپ ان کی طرف دیتے اور اس میں سے خود کچھ نہ کھاتے اور جب آپ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو آپ ان کو بلا بھیجتے اور ہدیہ سے خود بھی کھاتے اور ان کو بھی اپنے ساتھ : اور ان کو بھی اپنے ساتھ شریک فرماتے ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے اچھی نہ لگی اور مجھے خیال گزرا کہ یہ دودھ اصحاب الصفہ میں کیوں کر تقسیم ہو گا۔ میں زیادہ مستحق تھا کہ اس دودھ کو پیتا اور قوت حاصل کرتا جب وہ لوگ آجائیں گے تو آپ مجھے حکم فرمادیں گے اور مجھے اپنے ہاتھ سے ان کو تقسیم کرنا پڑے گا اور غالب گمان یہ ہے کہ میرے لئے اس میں سے کچھ نہ بچے گا لیکن خدا اور سول کی اطاعت سے کوئی چارہ نہ تھاپس میں ان م لوگوں کے پاس آیا اور ان کو بلایا ۔ وہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ آنحضرت ا نے ان کو اجازت دی پس وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے ۔ اس پر رسول کریم ا نے فرمایا ۔ ابو ہریرہ ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں۔ فرمایا ۔ یہ پیالہ لو اور ان کو پلاؤ۔ میں نے پیالہ لیا اور اس طرح تقسیم کرنا شروع کیا کہ پہلے ایک آدمی کو دیتا جب وہ پی لیتا اور سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر میں دوسرے کو دیتا جب وہ سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔ اسی طرح باری باری سب کو پلانا شروع کیا یہاں تک کہ سب پی چکے اور سب سے آخر میں میں نے نبی کریم اللہ کو پیالہ دیا آپ نے پیالہ لے لیا اور اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا ابو ہریرہ عرض کیا یا رسول اللہ حکم فرمایا اب تو تم اور میں رہ گئے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ درست ہے۔ فرمایا ۔ اچھا تو بیٹھ جاؤ اور پیوپس میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا جب پی چکا تو فرمایا کہ اور بیو۔ میں نے اور پیا۔ پھر فرمایا اور پیو۔ اور اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آخر مجھے کہنا پڑا کہ خدا کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اب تو اس دودھ کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا۔ اس پر فرمایا۔ کہ اچھا تو مجھے دو میں نے وہ پیالہ آپ کو پکڑا دیا ۔ آپ نے خدا تعالیٰ کی تعریف اور بسم اللہ پڑھی۔ اور باقی بچا ہوا دودھ پی لیا۔ اس حدیث سے رسول کریم ﷺ کی سیرت کے جن متفرق مضامین پر روشنی پڑتی ہے ان کے بیان کرنے کا تو یہ موقعہ نہیں مگر اس وقت میری غرض اس حدیث کے لانے سے یہ بیان کرنا ہے که رسول کریم تکبر سے بالکل خالی تھے اور تکبر آپ کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔ رسول کریم ال تو خیر بڑی شان کے آدمی تھے اور جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت دنیاوی شان بھی