انوارالعلوم (جلد 1) — Page 616
انوار العلوم جلدا 414 سيرة النبي فَارِنِي فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللهَ وَسَمًّى وَ شَرِبَ الْفَضْلَةُ (بخاری کتاب الرقاق باب كيف كان عيش النبي صلى الله علیه و سلم و اصحابه و تخليهم من الدنيا )۔ ترجمہ ۔ اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں کہ میں بھوک کے مارے زمین پر منہ کے بل لیٹ جایا کرتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا یعنی رسول کریم کے زمانہ میں اس وقت صحابہ زیادہ تر اپنے اوقات دین کے سیکھنے میں ہی خرچ کرتے تھے اور کم وقت اپنی روزی کے کمانے میں لگاتے تھے اس لئے دنیاوی مال آپ کے پاس بہت کم ہو تا تھا اور حضرت ابو ہریرہ بنی اللہ تو کوئی کام کیا ہی نہ کرتے تھے ، ہر وقت مسجد میں اس انتظار میں بیٹھے رہا کرتے تھے کہ کب رسول کریم انکلیں تو میں آپ کے ساتھ ہو جاؤں اور جو کچھ آپ کے دہن مبارک سے نکلے اس کو یاد کرلوں اور چونکہ سوال سے بچتے تھے کئی کئی وقت کا فاقہ ہو جاتا لیکن ہر حال میں شاکر تھے اور آستانہ مبارک کو نہ چھوڑتے تھے۔ ایک دن ایسے ہوا کہ میں اس راستہ پر بیٹھ گیا جس پر سے صحابہ گزر کر اپنے کاروبار کے لئے جاتے جاتے تھے۔ اتنے میں (حضرت) ابو بکر گزرے پس میں نے ان سے قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور میں نے یہ آیت ان سے اس لئے نہ پوچھی تھی کہ وہ مجھے اس کے معنی بتا ئیں بلکہ اصل غرض میری یہ تھی کہ شاید ان کی توجہ میری طرف ہو اور میرا پیٹ بھر دیں لیکن انہوں نے معنی بتائے اور آگے چل دئیے ، مجھے کچھ کھلایا نہیں۔ ان کے بعد (حضرت) عمر گزرے۔ میں نے ان سے بھی قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور وہ آیت بھی مجھ کو آتی تھی۔ میری اصل غرض یہی تھی کہ وہ مجھے کچھ کھلا ئیں مگر وہ بھی اسی طرح گزر گئے اور مجھے کچھ نہ کھلایا ۔ پھر وہاں سے ابو القاسم ال (یعنی آنحضرت فداہ نفسی) گزرے آپ نے جو نہی مجھے دیکھا مسکرا دیئے اور جو کچھ میرے جی میں تھا اور جو میرے چہرہ سے عیاں تھا یعنی بھوک کے آثار ) اس کو پہچان لیا پھر فرمایا ابو ہریرہ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں ارشاد فرمائیے۔ فرمایا میرے ساتھ چلے آؤ۔ پس میں آپ کے پیچھے چل پڑا آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میرے لئے اجازت مانگی پھر مجھ کو اندر آنے کی اجازت دی۔ پھر آپ اندر کمرہ میں تشریف لے گئے اور ایک دودھ کا پیالہ رکھا پایا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ اندر سے جواب ملا فلاں مرد یا فلاں عورت ( حضرت ابو ہریرہ کو یاد نہیں رہا کہ مرد کہا یا عورت) نے حضور کے لئے ہدیہ بھیجا ہے۔ اس پر مجھے آواز دی۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! حاضر ہوں۔ فرمایا اہلِ صفہ کے پاس جاؤ اور ان کو میرے پاس بلا لاؤ - ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے