انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 612

انوار الخادم جلدا ۶۱۲ سيرة النبي واقع ہے۔ کھانے پینے کی سخت تکلیف ہونے لگی اور سوائے اس کے کہ کوئی خدا کا بندہ چوری چھپے کوئی چیز دے جائے ان لوگوں کو ضروریات زندگی بھی میسر آئی مشکل ہو گئیں۔ اور قریباً دو سال تک یہی معاملہ رہا۔ اور بعض مؤرخ تو لکھتے ہیں کہ تین سال تک یہی حال رہا جب حالت انتہاء کو پہنچ گئی تو قریش میں سے پانچ شخص اس بات پر آمادہ ہوئے کہ اس ظلم کو دور کیا جائے اور ان قیدیوں کو رہائی دلائی جائے۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک دن عین کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ اب ہم اس ظلم کو زیادہ نہیں دیکھ سکتے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم لوگ تو پیٹ بھر کر کھانا کھائیں اور آرام سے زندگی بسر کریں۔ مگر چند ہمارے ہی ہم قوم اسی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے کھانے پینے سے تنگ ہوں اور باوجود قیمت دینے کے غلہ ان کے ہاتھ فروخت نہ کیا جائے۔ ہم اس معاہدہ کی جو ایسے ظلم کو روا رکھتا ہے پابندی نہیں کر سکتے ۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ بہت سے لوگ جن کے دل انصاف سے کورے نہ تھے۔ ان کی تائید میں کھڑے ہو گئے اور آخر وہ معاہدہ پھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ اور آنحضرت ا اور آپ کے قبیلہ کے لوگ اس قید سے آزاد ہوئے۔ مطعم بن عدی بھی ان پانچ اشخاص میں سے ایک تھا اور یہی تھا کہ جس نے بڑھ کر اس معاہدہ کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ علاوہ ازیں جب آنحضرت ا طائف کے لوگوں کو دعوت اسلام دینے کے لئے تشریف لے گئے۔ اور آ اور آپ سے وہاں کے بد معاشوں نے سخت ظلم کا کا سلوک کیا اور آپ کے پیچھے لڑکے اور کتے لگا دیئے تو آپ کو واپس مکہ میں آنا پڑا لیکن یہ وہ وقت تھا کہ مکہ کے لوگ بھی سخت سے سخت شرارت پر آمادہ ہو رہے تھے ۔ اور آپ آر کو وہاں بھی امن ملنا مشکل تھا اس وقت مطعم بن عدی نے آگے آکر آپ کو اپنے جوار میں لیا اور اپنی ذمہ داری پر آپ کو پناہ دی۔ یہ وہ احسانات تھے جو مطعم بن عدی نے آپ پر کئے تھے۔ اور جبیر بن مطعم سے آپ کا مذکورہ بالا کلام ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو ہمیشہ خیال رہتا تھا کہ کاش وہ زندہ ہوتا۔ اور میں اس کے احسانات کا بدلہ اتار تا چونکہ مطعم نے آپ کو اور آپ کے قبیلہ کو اس قید سے آزاد کرانے میں بہت کوشش کی تھی جس میں آپ بوجہ قریش کے غیر منصفانہ معاہدہ کے گرفتار تھے۔ اور پھر اس وقت جبکہ آپ کے دشمن آپ کو قسم قسم کی تکلیف پہنچانے پر پر آمادہ تھے آپ کو پ کو پناہ دی تھی۔ آپ کی توجہ بدر کے قیدیوں کو دیکھ کر اور یہ خیال کر کے کہ وہ لوگ جو چند سال پہلے مجھے اپنے ہاتھ میں خیال کرتے تھے