انوارالعلوم (جلد 1) — Page 609
اللہ تعالیٰ کے گنہگار بنو) اور آنحضرت ﷺ کو نمازوں میں سب سے پیا ری و ہ نما زہو تی تھی جس پر دوام اختیار کیا جا ئے۔خواہ تھوڑی ہی ہو اور آنحضرت ﷺ جب کسی وقت نماز پڑھتےتھےتو پھر اس وقت کو جا نے نہ دیتے تھے۔ہمیشہ اس وقت نماز پڑھتے رہتے۔حضرت عائشہ ؓ کی اس گوا ہی سے نہایت بیّن اور واضح طور سے یہ بات ثا بت ہو جا تی ہے کہ آنحضرت ﷺ کااستقلال ہر رنگ میں کامل تھا۔اور خواہ بڑے کا م ہوں یا چھوٹے۔آپؐ استقلال کو کبھی ہا تھ سے نہ جا نے دیتے تھے۔چنانچہ اس شہادت سے مندرجہ ذیل نتا ئج نکلتے ہیں۔1۔صحابہؓ کو استقلال کاسبق پڑھانا۔اور ہمیشہ انہیں استقلال کی تعلیم دیتے رہنا۔کیونکہ طاقت سے بڑھ کر کام کر نے کا نتیجہ ہمیشہ بے استقلالی ہو تا ہے۔اور آپؐ کا اس بات سے صحابہ ؓ کو رو کنا درحقیقت انہیں استقلال کی تعلیم دینا تھا۔اوریہ آنحضرتﷺکی خصوصیت ہےجس میں کوئی نبی آپؐ کاشریک نہیںکہ آپؐ قرآن کریم کے طریق کے مطابق جب کبھی کسی نیکی کا حکم کر تے یا بدی سے روکتے تو ہمیشہ اس نیکی کےحصول کی آسان راہ ساتھ بتاتے۔یا اس بدی کا اصل باعث ظا ہر کر تے تا کہ اس سے اجتناب کرکے انسان اس بدی سے بچ جائے۔اور اسی اصل کے ما تحت آنحضرت ﷺ نے استقلال کی تعلیم بھی صحابہ ؓ کو دی۔یعنی انہیں منع فر ما دیا کہ جس کام کو آخر تک نباہنا مشکل ہو اس پر اپنی خوشی سے ہا تھ مت ڈالو کہ اس طرح رفتہ رفتہ بے استقلالی کی عادت تم میں پیدا نہ ہو جا ئے۔2۔اس شہا دت سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ آپؐ خود بھی اس تعلیم پر عمل پیرا تھے۔اور اس عبادت کو پسند فر ما تے جس پر دوام ہو سکتا ہو۔خواہ وہ تھوڑی ہی ہو۔اور اس طرح اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتے۔کہ آپؐ کسی کام میں خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا۔استقلال کو ہا تھ سے نہ جا نے دیتے۔3۔تیسرے یہ بات بھی ثا بت ہو تی ہے کہ نہ صرف عام کاموں میں بلکہ عبادت میں بھی آپؐ استقلال کو ہا تھ سے نہ جانے دیتےاور یہ ایک خاص با ت ہے۔کیونکہ استقلال یا بے استقلالی کا اظہار عام کاموں میں ہو تا ہے۔اگر کو ئی شخص ایک دن خاص اثر اور جوش کے ماتحت خاص طور پر عبادت کرے۔اور دوسرے دن نہ کرے۔تو اس کا ایسا کر نا بے استقلالی نہیں کہلا سکتا۔لیکن آنحضرت ﷺ اس صفت میں ایسے کامل تھے کہ آپؐ عبادت میں بھی یہ پسند نہ فر ما تے کہ ایک دن ایک عبادت کرکے دوسرے دن چھوڑ دیں۔بلکہ جب ایک عبادت ایک دن کر تے تو دوسرے دن پھر کرتے تا کہ اس کے ترک سے طبیعت میں بے استقلالی نہ پیدا ہو اور یہ بات آپؐ کے