انوارالعلوم (جلد 1) — Page 608
انوار العلوم جلدا ۶۰۸ سيرة النبي ال کے راستہ میں خطر ناک سے خطرناک مصائب پیش آئیں وہ اپنے کام سے دست برداری نہیں کرتے اور کل دنیا کی مخالفت کے باوجود اپنا کام کئے جاتے ہیں۔ لیکن انہی لوگوں میں بعض ایسے پائے جاتے ہیں کہ روزمرہ کے کاموں میں جو نسبتا کم اہمیت رکھتے ہوں یا ان کا دائرہ اثر ایسا وسیع نہ ہو جیسا کہ اول الذکر کا وہ استقلال نہیں دکھا سکتے ۔ بلکہ چند دن سے زیادہ ان کے ارادہ اور ان کے عمل کو ثبات حاصل نہیں ہوتا۔ اس جماعت کے خلاف ایک ایسی بھی جماعت ہے۔ جو چھوٹے اور محدود الاثر معاملات میں تو خوب استقلال سے کام کر لیتے ہیں۔ لیکن جب کسی مہتم بالشان کام پر ان کو لگایا جاوے تو ان کا استقلال جاتا رہتا ہے اور وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ اور مفوضہ کام کو پورا کرنے کے اہل ثابت نہیں ہوتے۔ پس ان دونوں گروہوں کو ہم گو صاحب استقلال تو کہیں گے لیکن ہمیں یہ بھی ساتھ ہی اقرار کرنا پڑے گا۔ کہ اگر ایک استقلال کی ایک قسم سے محروم ہے تو دو سرا دوسری سے اور حقیقی طور پر صفت استقلال سے متصف انسان وہی ہو گا جو دونوں صورتوں میں اپنے استقلال کو ہاتھ سے نہ دے۔ اور خواہ امور مہمہ ہوں۔ یا امور در محدود الاثر ۔ اس کا استقلال اپنا اثر ظاہر کئے بغیر نہ لئے بغیر نہ رہے۔ جب ہم آنحضرت ﷺ کی سوانح عمری پر نظر ڈالتے ہیں۔ تو آپ استقلال کی ہر قسم میں کامل نظر آتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات کہ ان امور میں جنہیں آپ نے اپنی زندگی کا مقصد قرار دے لیا تھا۔ آپ کیسے مستقل مزاج ثابت ہوئے ہیں۔ پہلے لکھ آیا ہوں۔ اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شرک کی بیخ کنی اور حق کے پھیلانے میں ہی آنحضرت ا نے استقلال کا اظہار نہیں کیا بلکہ آپ کے تمام کاموں سے آپ کی کبھی نہ تھکنے والی طبیعت کا پتہ چلتا ہے۔ : ا پتہ چلتا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ آپ کی اس عادت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرماتی ہیں: وَكَانَ يَقُولُ: خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُوْنَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمِّلُوا وَأَحَبُّ الصَّلوةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُوَهِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلوةَ دَا وَ مَ عَلَيْهَا (کتاب الصوم باب صوم شعبان) ترجمہ آپ فرمایا کرتے۔ رتے تھے ۔ کہ وہ عمل کیا کرو جس کے ادا کرنے کی تم میں طاقت ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں ملول ہوتا یہاں تک کہ تم ملول نہ ہو جاؤ ۔ (یعنی جس قدر بھی دعا اور عبادت کرو ۔ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں رکھتا۔ ہاں تم خود ہی تھک کر رہ جاؤ تو رہ جاؤ۔ اس لئے اس قدر عمل مت کرو۔ کہ آخر طبیعت میں نفرت پیدا ہو جائے۔ اور اس طرح