انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 602

انوار العلوم جلد ۶۰۲ الله صلى الله معنی میں استعمال کیا ہے اور اس ہیڈنگ کے نیچے ہماری غرض آنحضرت ا اللہ کی ایسی صفت پر روشنی ڈالنا ہے جس معنی میں کہ یہ لفظ اُردو میں استعمال ہوتا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ ایک نہایت اعلی درجہ کی صفت ہے اور دنیا کی تمام اقوام فطرتاً اس صفت کی خوبی کی قائل ہیں گو بد قسمتی سے ہندوستان اس کے خلاف نظر آتا ہے کہ مردوں پر سالہا سال تک ماتم کیا جاتا ہے اور ایسی بے صبری کی حرکات کی جاتی ہیں اور کرب کی علامات ظاہر کی جاتی ہیں کہ دیکھنے والوں کو بھی تعجب آتا ہے۔ غرضیکہ فطرتا کل اقوام ، اقوام عالم نے صبر کو نہایت اعلیٰ صفت تسلیم کیا ہے اور ہر قوم میں صابر نہایت قابل قدر خیال کیا جاتا ہے چونکہ آنحضرت ﷺ کی نسبت ہمارا دعوی ہے کہ آپ تمام صفات حسنہ کا مجموعہ تھے۔ اور آپ سے بڑھ کر دنیا کا کوئی انسان نیک اخلاق کا اعلیٰ اور قابل تقلید نمونہ نہیں تھا اس لئے ذیل میں ہم صبر کے متعلق آپ کی زندگی کا ایک واقعہ بتاتے ہیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ اس صفت سے کہاں تک متصف تھے۔ بچپن میں اوّل والدہ اور پھر دادا کے فوت ہو جانے سے ( والد پیدائش سے ؟ سے بھی پہلے فوت ہو چکے تھے ) جو صدمات آپ کو پہنچے تھے۔ ان میں آپ نے جس صبر کا اظہار کیا اور پھر دعوی نبوت کے بعد جو تکالیف کفار سے آپ کو پہنچیں اس کو جس صبر و استقلال سے آپ نے برداشت کیا اور یکے بعد دیگرے انہی مصائب کے زمانہ میں آپ کے نہایت مہربان چچا اور وفاداری میں بے نظیر بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور اپنے یارے متبعین کی مکہ سے ہجرت کر جانے پر جس صبر کا نمونہ آپ نے دکھایا تھا وہ ایک ایسا وسیع مضمون ہے کہ قلت گنجائش ہم کو ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم ان مضامین کو یہاں شروع کریں اس لئے ہم صرف ایک چھوٹے سے واقعہ کے بیان کرنے پر جو بخاری شریف میں مذکور ہے کفایت کرتے ہیں ۔ جیسا کہ سیرۃ النبی کے ابتدا سے مطالعہ کرنے والے اصحاب نے دیکھا ہوگا میں نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ اس سیرہ میں صرف واقعات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی برتری دکھائی ہے۔ اور آپ کی تعلیم کو کبھی بھی پیش نہیں کیا تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ دے کہ ممکن ہے آپ لوگوں کو تو یہ کہتے ہوں اور خود نہ کرتے ہوں ۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔ پس اس جگہ بھی میں آپ کی اس تعلیم کو پیش نہیں کرتا جو آپ نے صبر کی کرتا جو آپ نے صبر کی نسبت اپنے اتباع کو دی ہے اور جس میں کرب وكبرا وگھبراہٹ اور نا امیدی کے اظہار سے منع کیا کیا ہے ہے اور اور اللہ اللہ تو تعالی کی قضاء پر رضا کا حکم دیا ہے بلکہ صرف آپ کا عمل پیش کرتا ہوں ۔ عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ